واشنگٹن: طالبان قیادت نے آئندہ ماہ سعودی عرب میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم امریکی حکومت کے نمائندوں سے بات چیت جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
طالبان، امریکی اہلکاروں اور پاکستان سمیت علاقائی ممالک کے نمائندوں کا ایک اجلاس روہاں ماہ متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا جس میں افغانستان میں 17 برسوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ تاہم طالبان نے امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت یافتہ افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
طالبان قیادت کی کونسل کے ایک رکن نے غیر ملکی نیوزایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ماہ سعودی عرب میں امریکی اہلکاروں سے ملیں گے اور اس ملاقات میں ابوظہبی میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے نامکمل پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔ تاہم طالبان رکن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر واضح کر دیا ہے کہ وہ براہ راست افغان حکومت سے کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کریں گے۔
طالبان کا اصرار ہے کہ وہ افغانستان میں امن کے لیے امریکی اہلکاروں کے ساتھ سمجھوتہ طے کرنے کے خواہشمند ہیں جنہیں وہ افغانستان میں واحد طاقت تصور کرتے ہیں۔
افغان تنازعے کے حل سے متعلق سفارتی کوششوں میں اُس وقت تیزی آئی جب طالبان نمائندوں نے امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد سے بات چیت کا آغاز کیا۔ فریقین کی سابقہ ملاقاتوں میں افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا اور 2019 میں فائر بندی کے معاہدے کے بارے میں بات کی گئی۔ تاہم امریکہ کا اصرار ہے کہ افغان تنازعے کے حل کیلئے حتمی معاہدہ افغانستان حکومت کی سرکردگی میں ہی ہونا چاہئیے۔
Comments are closed.