پی ایس ایل کی نئی فرنچائزز کے لیے ریزرو پرائس سوا ارب روپے مقرر ہونے کا امکان

پاکستان سپر لیگ میں دو نئی فرنچائزز کی شمولیت کے لیے ریزرو پرائس سوا ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جبکہ پاکستان سمیت امریکا، برطانیہ اور یورپ کی کئی بڑی کمپنیوں نے بڈنگ میں دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔

دو نئی ٹیموں کا فیصلہ

پی سی بی کی جانب سے جاری ابتدائی ٹینڈر کے مطابق دو نئی پی ایس ایل فرنچائزز کے قیام کا باقاعدہ فیصلہ جنوری میں کیا جائے گا۔ریزرو پرائس سوا ارب روپے یا اس سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے، جس کے بعد صرف وہ بولی دہندگان آگے بڑھ سکیں گے جو ٹیکنیکل معیار پر پورا اتریں گے۔ٹیکنیکل پروپوزلز جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔

رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی کمپنیاں

پاکستان کے اندر سے سامنے آنے والی پانچ بڑی پارٹیز میں رئیل اسٹیٹ اور سولر انرجی سیکٹر کی کمپنیاں نمایاں ہیں، جو پہلے بھی ملکی کرکٹ کی اسپانسر شپ کا حصہ رہ چکی ہیں۔
غیرملکی دلچسپی میں دو امریکی کاروباری شخصیات، برطانیہ اور ایک یورپی ملک کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

ملتان سلطانز کی ملکیت

دوسری جانب ملتان سلطانز کے اونر علی ترین پہلے ہی لیگ کو ’’الوداع‘‘ کہہ چکے ہیں، تاہم پی سی بی نے اس معاملے میں ابھی تک کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق بعض سیاسی شخصیات علی ترین کو منانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اگر انہوں نے اپنے سابقہ بیانات واپس لے لیے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔

ملتان سلطانز کی فیس

علی ترین کی ٹیم کی سالانہ فیس ایک ارب 8 کروڑ روپے تھی، جو 25 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔بعض حلقوں کے مطابق یہی مالی دباؤ اونرز کی علیحدگی کی بڑی وجہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر علی ترین فرنچائز برقرار نہ رکھ سکے تو “ملتان سلطانز” کے نام کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو سکتا ہے۔

اونرز کی شمولیت واضح نہیں

ابھی یہ بھی طے نہیں کہ موجودہ ٹیم مالکان ری بڈنگ میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے یا نہیں۔دلچسپ طور پر نئی فرنچائزز کے لیے بڈنگ میں شامل ایک کمپنی کا نام خاصی اہمیت رکھتا ہے — ٹی سے شروع ہونے والا ’’گروپ آف کمپنیز‘‘ — جس نے مبصرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔

Comments are closed.