پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے منشیات کے خلاف جنگ میں مشترکہ کارروائیوں اور تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات کی نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے چیئرمین شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔ وزارت داخلہ آمد پر محسن نقوی نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔
ملاقات کی تفصیلات
ملاقات میں انسداد منشیات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ انسداد منشیات کے لیے نمائندہ شخصیات مقرر کی جائیں گی تاکہ تعاون کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط بنایا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میجر جنرل عبدالمعید جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے بریگیڈیئر طاہر غریب نمائندہ خصوصی نامزد کیے گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف
محسن نقوی نے متحدہ عرب امارات میں نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کے پہلے چیئرمین کے طور پر شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے دونوں ممالک کے درمیان انسداد منشیات کے شعبے میں تعاون کو نئی جہت ملے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان منشیات کے خلاف جنگ میں صفِ اوّل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات میں 400 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 5 ٹن منشیات پکڑی گئی، جو بروقت معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ مصنوعی منشیات (Synthetic Drugs) کی اسمگلنگ میں اضافہ تشویشناک ہے جس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا: “منشیات کے خلاف جنگ ہماری نسلوں کی جنگ ہے اور اس میں ہار کوئی آپشن نہیں۔”
شیخ زید بن حماد کا پیغام
اس موقع پر یو اے ای کی نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی کے چیئرمین شیخ زید بن حماد بن حمدان النہیان نے کہا کہ انسداد منشیات میں پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ اور روشن مستقبل بنایا جا سکے۔
دیگر شرکاء
اس ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈی جی اے این ایف اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
Comments are closed.