فیض حمید کے کورٹ مارشل پر قیاس آرائیاں نہ کی جائیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کورٹ مارشل کے حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیاں بند ہونی چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانونی اور عدالتی عمل ہے، اور جیسے ہی اس پر فیصلہ آئے گا، قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے افغانستان، دہشت گردی، سوشل میڈیا مہمات اور صوبائی سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بھی اہم بریفنگ دی۔

فیض حمید کا معاملہ

سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹینٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے بارے میں چلنے والی افواہیں حقیقت پر مبنی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس پر عملدرآمد ہوتے ہی تمام تفصیلات سامنے لے آئیں گے۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں غیر ذمہ دارانہ ہیں اور ان سے گریز کیا جائے۔

ریاست مخالف سوشل میڈیا مہمات

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس سرگرم ہیں جو ریاست کے خلاف بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کئی اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں بے چینی پیدا کرنا ہے۔

 افغان عوام کے خلاف نہیں

افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہماری پالیسی دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔ اگر ہم کارروائی کریں تو کھلم کھلا اعلان کے بعد کرتے ہیں۔‘‘

لیفٹینٹ جنرل احمد شریف نے زور دیا کہ افغان رجیم دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے، اور جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوتی، پاکستان کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔

بلوچستان میں سیکیورٹی اقدامات

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کر رہی ہے، جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے بنی مختلف کمیٹیوں میں پاک فوج کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سول و ملٹری ادارے مشترکہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Comments are closed.