پاکستان میں پہلی بار منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قراءت میں دنیا کے 37 ممالک سے آئے قاری حضرات نے شرکت کی، جسے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی مذہبی و ثقافتی میزبانی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس روح پرور تقریب میں ملائیشیا کے قاری ایمن رضوان بن محمد رملان نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے ایونٹ کا اعزاز اپنے نام کیا۔
پروگرام کا آغاز
تقریبِ انعامات کا آغاز معروف قاری سید صداقت علی کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس نے محفل کو روحانیت سے بھر دیا۔ اس موقع پر دنیا بھر سے آئے قراء کے احترام میں شرکاء کھڑے ہو کر داد دیتے رہے۔
اتحادِ امت کی آواز
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز ہے کہ 37 ممالک کے قراء نے یہاں آکر عالمی اتحاد اور قرآنی بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مہمان قراء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی خدمت کرنے والوں کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے گا۔
روحانی بنیادوں کا اظہار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ مقابلۂ قرأت امتِ مسلمہ کے اتحاد اور قرآن کی عظمت کیلئے پاکستان کی کوششوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اس لیے قرآن کے ساتھ رشتہ مضبوط بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ قرآن کریم امن، رحمت، عدل اور یکجہتی کا درس دیتا ہے، اور قومی نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے قرآن سے رہنمائی ضروری ہے۔
قراءت کا شاندار مقابلہ
مقابلہ حسنِ قراءت میں فاتحین کو خطیر انعامات دیے گئے۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے قاری کو 50 لاکھ روپے، دوسری پوزیشن کے لیے 30 لاکھ روپے جبکہ تیسرے نمبر کے لیے 20 لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔
ملائیشیا کے قاری ایمن رضوان نے مقابلے میں پہلا مقام حاصل کیا، ایران کے قاری عدنان نے دوسری اور پاکستان کے قاری عبدالرشید نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ افغانستان کے قاری چوتھے، انڈونیشیا کے پانچویں اور مراکش کے قاری چھٹے نمبر پر رہے۔
انعامات کی تقسیم
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر روایتی انداز میں اسٹیج پر آئے اور مختلف ممالک کے جیتنے والے قراء میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر شرکاء نے عالمی سطح پر قرأت کے اس نئے باب کی بھرپور تحسین کی۔
Comments are closed.