پاکستان-سعودیہ معاہدے کے بعد ایران بھی شامل ہو تو خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم ہوگا:رحیم صفوی

ایرانی پاسداران انقلاب کے میجر جنرل اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ و دفاع، رحیم صفوی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو جائے تو یہ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پورے مسلم امہ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

اسلامی ممالک کے لیے پیغام

رحیم صفوی نے کہا کہ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کریں۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی آ رہی ہے اور واشنگٹن اپنی توجہ ایشیا پیسیفک خطے پر مرکوز کر رہا ہے، اس لیے یہ وقت ہے کہ مسلم ممالک ایک “اسلامی سکیورٹی بلاک” کے قیام پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ خودمختاری اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

سعودی عرب-پاکستان معاہدہ

چند روز قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو خطے میں عسکری اور سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان کا ردعمل

پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد دیگر ممالک نے بھی پاکستان کے ساتھ ایسے ہی دفاعی معاہدے کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان کی دفاعی پوزیشن اور خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔

تجزیہ اور امکانات

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے اس معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش خطے میں نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ایران کسی مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مسلم دنیا میں اتحاد کی علامت ہو گا بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔

Comments are closed.