سابق وفاقی وزیر داخلہ اور سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے اور غریب عملاً زندہ دفن ہو رہا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام بچوں کو اسکولوں اور کالجوں سے نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
عدالتوں کی صورتحال
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جی ایچ کیو کیس کی آئندہ تاریخ 17 تاریخ منظور ہوئی ہے، اور ’’سارے کیسوں کی حالت سب کے سامنے ہے‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے، پھر بھی ان کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بھتیجے کو فیصل آباد دیکھے بغیر 40 سال کی سزا سنائی گئی ہے اور جائیداد ضبطی کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
مہنگائی، بے روزگاری اور ٹوٹتے گھرانے
شیخ رشید نے کہا کہ ملک کا غریب انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ان کے مطابق مہنگائی نے گھرانوں کے حالات بدتر کر دیے ہیں، والدین بچوں کو اسکولوں اور کالجوں سے اٹھا رہے ہیں اور ’’آج پڑھانے والے زیادہ ہیں، پڑھنے والے کم‘‘۔انہوں نے بتایا کہ مساجد میں بھی اعلانات کرائے ہیں کہ بچیوں کی تعلیم نہ روکی جائے، کیونکہ غربت کے باوجود تعلیم چھوڑ دینا آنے والے وقت کو اور تباہ کر دے گا۔
لال حویلی کی پیشکش
سابق وزیر نے والدین سے اپیل کی کہ بچیوں کو ضرور پڑھائیں، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ کالجوں کی تعداد اتنی کم ہو گئی ہے کہ ’’کالج، کالج ہی نہیں لگتا‘‘۔شیخ رشید نے کہا کہ اگر کسی کو تعلیم کے معاملے میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ لال حویلی سے رابطہ کرے۔
Comments are closed.