اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں 26 نومبر احتجاج کیس، سپریم کورٹ کے باہر مظاہرے اور دیگر مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت کی سربراہی جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی، جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں بشریٰ بی بی، عمر ایوب، شیر افضل مروت، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی اور دیگر رہنماؤں کے کیسز پیش کیے گئے۔
ضمانت میں توسیع
عدالت نے بشریٰ بی بی، عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 13 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو اس دوران گرفتاری سے روک دیا۔ اس موقع پر عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر فریقین دلائل پیش کریں۔
استثنا کی درخواستیں
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، زرتاج گل اور دیگر کی حاضری سے استثنا کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں، جنہیں عدالت نے منظور کر لیا۔
مقدمات کی تفصیل
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا، سنگجانی، ترنول اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی 240 سے زائد ضمانتیں زیر سماعت ہیں، جن پر آئندہ سماعت میں پیش رفت متوقع ہے۔
آئندہ کی کارروائی
عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل طور پر پیش کریں تاکہ مقدمات پر حتمی فیصلے کی طرف بڑھا جا سکے۔
Comments are closed.