حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری نعیم قاسم نے کہا ہے کہ جماعت کو اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈر ہیثم طباطبائی اور چار ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کو جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ’’کھلی جارحیت‘‘ اور ’’سنگین جرم‘‘ ہے، اور اس کا جواب کب اور کیسے دیا جائے گا—اس کا فیصلہ حزب اللہ خود کرے گی۔
تعزیتی تقریب سے سخت لہجہ
بیروت کے جنوبی مضافات میں اتوار کے روز اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے طباطبائی اور ان کے ساتھیوں کے لیے منعقدہ تعزیتی تقریب سے سکرین پر خطاب کرتے ہوئے نعیم قاسم نے کہا کہ دشمن اسے جس طرح چاہے سمجھ لے، حزب اللہ کے لیے یہ کارروائی جنگ بندی کے بعد سنگین اشتعال انگیزی ہے۔ ان کے مطابق گروپ اس دن آئندہ کارروائی کی تیاری کے لیے جمع ہوا تھا جب یہ حملہ ہوا۔
جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا نقصان
27 نومبر 2024 کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود ہونے والے اس حملے میں طباطبائی کی ہلاکت حزب اللہ کے لیے جنگ بعد کا سب سے بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ ایک سال طویل جنگ نے تنظیم کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا تھا، اسرائیل نے اس کے اسلحہ خانے کا بڑا حصہ تباہ کیا اور متعدد سینئر کمانڈروں کو ہدف بنایا۔
طباطبائی وہ پہلے سب سے اعلیٰ کمانڈر ہیں جنہیں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملے میں ہلاک کیا گیا۔ حزب اللہ کے مطابق انہوں نے شام اور یمن میں بھی عسکری ذمہ داریاں نبھائیں اور سابق قیادت کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے اہم فوجی عہدوں پر فائز ہوئے۔
ایران کا انتقام لینے کا مطالبہ
حزب اللہ کے مضبوط ترین اتحادی ایران نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پاسداران انقلاب کی زبانی کہا کہ محورِ مزاحمت کو اپنے ’’بہادر اسلامی جنگجوؤں‘‘ کے خون کا بدلہ لینے کا پورا حق ہے۔ تہران نے اس حملے کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی نئی کوشش قرار دیا۔
اسرائیل اور لبنان کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں برقرار رکھے ہوئے ہے اور بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو فوجی صلاحیتیں دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ جنگ بندی معاہدے کے تحت اب امریکہ کی جانب سے بھی لبنانی فوج پر اس دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل تیز کیا جائے۔
کشیدگی کی نئی لہر
خطے کے تجزیہ کاروں کے مطابق طباطبائی کی ہلاکت نہ صرف جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہی ہے بلکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک نئی عسکری کشیدگی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ حزب اللہ کی قیادت کی جانب سے سخت لہجہ اور ایران کی جانب سے انتقام کی اپیل—دونوں عوامل خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
Comments are closed.