خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایک بڑے آپریشن کے دوران 22 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے منسلک تھے، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن اب بھی جاری ہے۔
آپریشن کی تفصیلات
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بنوں میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے گروہ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تو شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 22 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔ بیان کے مطابق ہلاک افراد کا براہ راست تعلق بھارتی پراکسی سیٹ اپ سے نکلا ہے۔
آپریشن عزمِ استحکام
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کی کلیئرنس اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن مسلسل جاری رہے گا۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
صدر اور وزیراعظم کا اعلان
صدر آصف علی زرداری نے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم 22 حملہ آوروں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے دفاع میں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی حمایت یافتہ خوارج کا خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بنوں آپریشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ عزمِ استحکام کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
Comments are closed.