دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی:اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے مؤقف، سفارتی حکمتِ عملی اور علاقائی روابط کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، اور ملک کے خلاف کسی بیرونی دباؤ یا سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی‘‘ اور پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر انداز میں متحرک ہے۔

سفارتی مصروفیات

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ گزشتہ دس سے بارہ دنوں کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں انتہائی اہم رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی میٹنگ ماسکو میں ہوئی جہاں پاکستان کی معاشی ترجیحات اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ماسکو، برسلز اور بحرین کے دورے کیے جہاں علاقائی استحکام، توانائی تعاون اور باہمی روابط پر پاکستان کا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا گیا۔ ایس سی او کانفرنس میں وزیراعظم کی ہدایت پر انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی اور توانائی، تجارت اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر بات کی۔

روسی صدر کو پاکستان آنے کی دعوت

اسحاق ڈار نے بتایا کہ 17 اور 18 تاریخ کو دورہ روس کے دوران اہم ملاقاتیں ہوئیں اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ماسکو میں ہونے والی ملاقاتیں انتہائی کامیاب رہیں‘‘ جبکہ روس کے اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں 11 اہم فیصلے کیے گئے۔

خطے کی صورتحال

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ روسی قیادت کے ساتھ خطے کی صورتحال، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی بحران پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر فورم پر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور جنگ بندی و انسانی امداد کی فراہمی کیلئے موثر آواز اٹھاتا رہے گا۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات

اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے تحریکِ طالبان پاکستان اور سرحدی معاملات سے متعلق افغان قیادت کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کھلے دل سے افغانستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

افغان مہاجرین

انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین نے افغان صورتحال پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے اور پاکستان عالمی قوانین کے مطابق افغان مہاجرین کو باعزت طور پر واپس بھیج رہا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، تعاون اور ترقی کے مضبوط ایجنڈے پر قائم ہے، جسے عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔

Comments are closed.