پاکستان اور افغانستان نئی فوجی کشیدگی کے دہانے پرکھڑے ہیں:واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک نئی فوجی محاذ آرائی کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ بھارت کے طالبان کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں ابھرنے والی یہ نئی کشیدگی افغانستان کی داخلی کمزوریوں اور باہمی سیاسی مفادات کے ٹکراؤ سے جنم لے رہی ہے۔

بھارت–طالبان رابطے

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین اور افریقہ کی خبریں عالمی منظرنامے پر چھائی ہوئی ہیں، مگر ایشیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی و سیاسی سرگرمیوں نے نہ صرف کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے کی طاقت کے توازن میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ رابطے پاکستان کے لیے نئی اسٹریٹجک تشویش کا سبب بن رہے ہیں۔

افغانستان میں فضائی حملہ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ منگل کے روز مشرقی افغانستان میں ایک فضائی حملے میں 9 بچوں سمیت متعدد شہریوں کی ہلاکت نے صورتحال کو ایک خطرناک موڑ دے دیا ہے۔ علاقہ مکین اپنی تباہ شدہ بستیوں اور تازہ کھودی گئی قبروں کے درمیان سوگ میں مبتلا ہیں، جبکہ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ کو بھی تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سرحدی تعاون کو مزید کمزور کرتے ہیں اور نئی کشیدگی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

 اثر و رسوخ کی جنگ

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نہ صرف سرحدی سکیورٹی کے مسائل کو گھمبیر بنا رہی ہے بلکہ مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی جنگ کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود دیرینہ اعتماد کے خسارے نے اس کشیدگی کو مزید نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

Comments are closed.