وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، علیمہ خان اور وکلاء پر مشتمل وفد کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد کے باوجود چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وزیراعلیٰ نے شنوائی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس نہیں چلنے دیا جائے گا۔
چیف جسٹس ہم سے نہیں مل سکتے
سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں چیف جسٹس کی جانب سے واضح پیغام ملا کہ ملاقات ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی، اور اب سوال یہ ہے کہ آخر کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لیڈر عمران خان سے ملاقات کر سکیں۔
آئندہ منگل کا اعلان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکن منگل کو ہائیکورٹ کے باہر بھی اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی احتجاجی اکٹھ کریں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ صوبے کے انتظامی امور پر مسلسل اپنی ٹیم سے رابطے میں ہیں اور سیاسی جدوجہد میں نچلی سطح سے اوپر آئے ہیں، نہ کہ کسی پیراشوٹ کے ذریعے۔
ایڈووکیٹ جنرل
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ سے ملاقات سے انکار کیا ہے۔ان کے مطابق چیف جسٹس نہ ایڈووکیٹ جنرل سے ملے، نہ کسی وکیل سے، اور آج کسی فرد سے ملاقات کا پروگرام ہی موجود نہیں تھا۔
راولپنڈی دھرنا ختم
اس سے قبل راولپنڈی میں سہیل آفریدی نے دھرنا ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تمام آئینی و قانونی راستے استعمال کر چکے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب ان کے پاس ایسا کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے جس سے وہ اپنے لیڈر عمران خان تک رسائی حاصل کر سکیں۔
Comments are closed.