اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی بین الاقوامی کھیلوں کی مقابلے میں اس وقت تک شریک نہ ہونے دیا جائے جب تک غزہ میں جاری بربریت ختم نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر بھی وہی پابندیاں عائد کی جائیں جو روس پر یوکرین پر حملے کے بعد لگائی گئی تھیں۔
سانچیز نے یہ بیان پارلیمان میں سوشلسٹ پارٹی کی بین الپارلیمانی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جب تک بربریت ختم نہیں ہوتی، روس اور اسرائیل دونوں کو کسی بھی عالمی مقابلے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ موقف اسپین کی بڑی اکثریت کی رائے کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب گزشتہ اتوار کو میڈرڈ میں لا وویلتّا اسپانیا سائیکل ریس کا آخری مرحلہ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے خلاف مظاہروں کے باعث منسوخ کرنا پڑا۔ احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جس کے دوران جھڑپوں میں 20 سے زائد پولیس اہلکار زخمی اور دو مظاہرین گرفتار ہوئے۔
وزیرِاعظم نے زور دیا کہ وہ ہمیشہ تشدد کی مخالفت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس بات پر گہری عزت و احترام کا اظہار کیا کہ ہسپانوی سول سوسائٹی ناانصافی کے خلاف پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔
سانچیز نے یہ بھی یاد دلایا کہ اسپین یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا اور اب دیگر بڑے ممالک بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر اپنی آواز بلند کر کے انصاف کے حق میں مؤقف اپنانے پر تیار ہے، چاہے اس پر کچھ اتحادی ممالک سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
Comments are closed.