اسپین کا ٹرمپ کی زیر قیادت “یو ایس پیس کونسل” میں شمولیت سے انکار

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کی جانے والی نئی امریکی امن کونسل میں شامل نہیں ہوگا۔

یہ اعلان جمعرات کی رات برسلز میں ہونے والی یورپی کونسل کی ایک غیر معمولی نشست کے بعد کیا گیا جس میں مختلف عالمی و علاقائی امور پر گفتگو ہوئی۔ سانچیز نے کہا کہ اسپین نے اس فورم میں شرکت کی دعوت کو شکریہ کے ساتھ مسترد کیا ہے کیونکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے نظام اور کثیرالجہتی سفارتی اصولوں سے ہٹ کر ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسی روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس کونسل کا افتتاح کیا جس کا مقصد عالمی تنازعات، خصوصاً فلسطین کے مسئلے پر پیش رفت کرنا ہے، تاہم یہ کونسل اقوام متحدہ کے فریم ورک سے باہر تشکیل دی گئی ہے اور اس میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس میں شرکت کی۔

سانچیز نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے مستقبل کا فیصلہ دو ریاستی حل اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے جس میں فلسطینیوں کی شمولیت ناگزیر ہے، اور انسانی امداد کی رسائی اور خطے میں امن کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپین امن کے عمل سے خود کو الگ نہیں کر رہا بلکہ گزشتہ تین دہائیوں سے خصوصاً بارسلونا پروسیس کے بعد سے سے اس سمت میں کردار ادا کرتا آیا ہے۔

اسپین کے اس فیصلے کو یورپی یونین کے اندر جاری اس بحث کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عالمی تنازعات کو اقوام متحدہ کے نظام کے متوازی کسی نئے فورم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور کیا اس سے عالمی سفارت کاری میں خلل یا تقسیم پیدا ہوگی۔

Comments are closed.