بیروت / واشنگٹن: امریکہ نے لبنان پر اپنا سفارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے لبنانی حکومت سے باضابطہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کابینہ سے باقاعدہ فیصلہ کروائے تاکہ اس حوالے سے حکومتی کمٹمنٹ کا اظہار ہو سکے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ جب تک لبنان کی حکومت اس فیصلے کو سرکاری طور پر منظور نہیں کرتی، اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ بات پانچ مختلف ذرائع — جن میں دو لبنانی سفارتکار، دو اعلیٰ حکام، اور ایک سیاسی ذریعے شامل ہیں — نے انکشاف کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی پبلک کمٹمنٹ نہیں دی جاتی، اس وقت تک واشنگٹن لبنان کے لیے اپنا خصوصی ایلچی تھامس بیرک نہیں بھیجے گا۔
امریکی سفارتی حکام کی جانب سے اس خبر پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ تقریباً چھ ہفتوں سے امریکہ اور لبنان کے درمیان جاری بات چیت اب تعطل کا شکار ہے۔ امریکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک روڈ میپ پر عملدرآمد کروانا چاہتا ہے، تاکہ اسرائیل کو لبنانی علاقوں سے فوجی انخلا پر قائل کیا جا سکے۔
لبنان اور حزب اللہ کا مؤقف
دوسری جانب، ایران کے حمایت یافتہ لبنانی عسکری و سیاسی گروہ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اسلحے سے مکمل دستبرداری کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ لبنان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور امریکہ دراصل اسرائیلی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
لبنانی حکام نے امریکہ سے زور دیا ہے کہ اگر کسی امن عمل کی توقع رکھی جا رہی ہے تو اسرائیل کو پہلے لبنانی سرحدی علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا اور ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے، کیونکہ یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ لبنان کی خودمختاری پر بھی حملہ ہیں۔
نبیہ بیری کا سخت مؤقف
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور حزب اللہ کے قریبی سیاسی اتحادی نبیہ بیری نے امریکی حکام سے ملاقات میں واضح کہا ہے کہ اسرائیل کو پہلے جنگ بندی معاہدے (جو 27 نومبر 2024 کو ہوا تھا) پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا، جس میں لبنانی علاقوں سے انخلا اور بمباری کا خاتمہ شامل ہے۔
علاقائی تناؤ میں شدت
اس وقت اسرائیلی فوج وقتاً فوقتاً لبنانی علاقوں پر بمباری کے ذریعے اپنی موجودگی اور طاقت کا اظہار کرتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی لبنانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور متعدد مغربی ممالک پہلے ہی حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، اور اب امریکہ اس عسکری گروہ کو لبنان کی سیاست و طاقت سے الگ کرنے کے لیے براہِ راست دباؤ ڈال رہا ہے۔
یہ تمام صورتحال لبنان کے لیے ایک پیچیدہ داخلی و خارجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں حزب اللہ، لبنانی حکومت، اسرائیل اور عالمی طاقتیں ایک نازک توازن میں الجھی ہوئی ہیں۔
Comments are closed.