نئی پالیسی کے تحت امریکی بینک اب اپنے صارفین کی شہریت اور امیگریشن اسٹیٹس کی کڑی نگرانی کریں گے۔ حکومت نے بینکنگ ریگولیٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ میں مقیم غیر قانونی افراد کے اکاؤنٹس پر نظر رکھیں۔ بغیر قانونی دستاویزات کے بینک اکاؤنٹ کھولنے اور کریڈٹ کارڈز کے اجراء کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے موقف اپنایا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو قرض دینے سے بینکوں کو مالی خطرات لاحق ہیں۔ کسی بھی شخص کی ملک بدری کی صورت میں بینکوں کے قرض ڈوبنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لیے مالیاتی نظام کو ان ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
گرین کارڈ کے قوانین اور نئے مالیاتی ضوابط
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ کے حصول کے لیے گرین کارڈ کیلئے درخواست دینے والوں کے بیک گراؤنڈ کی جانچ پڑتال کے عمل کو بھی مزید سخت کر دیا ہے۔ اب درخواست گزاروں کی نظریاتی اسکریننگ کی جائے گی تاکہ امریکی مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔ اس کے علاوہ ٹیکس فائل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے شناختی نمبرز (آئی ٹی آئی این) کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
بینک اب تارکین وطن کو ہوم لون اور گاڑیوں کے قرضے دیتے وقت ملک بدری کے خطرے کا جائزہ لیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان نئے قوانین پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے لاکھوں لوگ باقاعدہ بینکنگ نظام سے باہر ہو جائیں گے۔
بینکنگ انڈسٹری نے بھی ان قوانین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے لابنگ کی تھی۔ بینکوں کا موقف تھا کہ صارفین کی شہریت چیک کرنے سے کاغذی کارروائی اور اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ تاہم حکومت نے معاشی سیکیورٹی کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ نافذ کر دیا ہے۔


















