وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سائبرسیکیورٹی کی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی فعال شمولیت کی تعریف کی اور اہم مالیاتی انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ہم آہنگ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دی گئی جس میں تبدیل ہوتا ہوا سائبر خطرے کا منظرنامہ پیش کیا گیا، بشمول اے آئی سے چلنے والے سائبر ٹولز کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی جو کمزور پہلو کو شناخت کرنے اور متعدد مراحل والے حملوں کو ناقابل یقین رفتار سے انجام دینے کے قابل ہیں۔
بریفنگ میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز، ادائیگی کے مختلف نظام اور بنیادی مالیاتی انفرا اسٹرکچر میں ممکنہ خطرات کو اجاگر کیا گیا اور تیاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی تجربات کا بھی حوالہ دیا گیا، جاپان اور بھارت جیسے ممالک میں حالیہ سائبر خطرے کے رجحانات کا ذکر کیا گیا جہاں مالیاتی نظاموں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور باہم منسلک نظاموں پر ہونے والے حملوں کا سامنا بڑھ رہا ہے۔
شرکا کو اے آئی سے چلنے والے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کے حوالے سے بین الاقوامی پالیسی ردعمل کی ترقی سے آگاہ کیا گیا، دنیا بھر میں وزارت خزانہ اور مرکزی بینکس ان پیش رفت کو اعلیٰ ترجیح والے نظاماتی خدشات کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور ورلڈ بنک کے اجلاس اور بڑے مالیاتی اداروں کے ساتھ دو طرفہ مشاورت سمیت ہم آہنگ اعلیٰ سطح کے پلیٹ فارمز کے ذریعے مصروف عمل ہیں۔
















