ایف بی آئے کے سابق ڈائریکٹر کی جانب سے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے جانے کے بعد انہیں ریاست ورجینیا کے مشرقی ضلع کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ جیمس کومی نے گزشتہ سال سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں سمندر کنارے سیپوں سے “86 47” لکھا ہوا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ عام بول چال میں “86” کا مطلب کسی چیز کو ختم کرنا یا ہٹا دینا ہوتا ہے جبکہ “47” موجودہ صدر ٹرمپ کی طرف اشارہ تھا کیوں کہ 47 ویں صدر ہیں۔
اسی بنیاد پر جیمز کومی پر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے یا منظرنامے سے ہٹانے اور بین الریاستی سطح پر دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم مختصر سماعت کے بعد جج نے انھیں بغیر کسی شرط کے جانے کی اجازت دے دی۔عدالت کی یہ کارروائی چند منٹوں پر مشتمل تھی۔
جیمز کومی کی باقاعدہ فردِ جرم اور اگلی پیشی کی تاریخ تاحال مقرر نہیں کی گئی جبکہ کیس کو آگے چل کر شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں منتقل کیا جائے گا۔ سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر کے وکلا نے دلیل دی کہ وہ محکمۂ انصاف پر جانبدار اور انتقامی کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ چیلنج کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جیمز کومی کو قانونی کارروائی کا سامنا ہو اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کے سابق دور میں ان پر کانگریس سے غلط بیانی کا کیس بنایا گیا تھا جو بعد میں عدالت نے خارج کر دیا تھا۔
















