وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے ہمارا معاشی ترقی کا سفر رک گیا، پٹرولیم کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔
سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ چکا دیا، کفایت شعاری اقدامات جاری رہیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کابینہ کے ارکان کو صورت حال پر اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں اہم واقعات ہوئے، امریکا اور ایران کے مابین پاکستان نے بات چیت کا جو طویل سلسلہ 11 اپریل کی رات شروع کرایا وہ 21 گھنٹے طویل تھا۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ اس دوران خام تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ہمیں بھی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے ، بہت چیلنجنگ صورت حال کا سامنا ہے لیکن اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
انہوں نے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں صورتحال تسلی بخش رہی اور کہیں لائنیں نہیں لگیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صورت حال ایسی ہے کہ جنگ سے پہلے ایک ہفتے کا پٹرولیم بل جو 300 ملین ڈالر ہوتا تھا آج 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، حکومت کفایت شعاری اقدامات اور بچت کے ذریعے کوشاں ہے، اس کیلئے ٹاسک فورس بھی بنائی جو صورت حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے ، حکومتی اقدامات کی بدولت کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
















