پولیس نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 31 سالہ ڈرائیور سالم القدری کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم ماضی میں ذہنی امراض کے علاج کے مرکز سے منسلک رہا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی کی رفتار تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی جس نے لوگوں کو ہوا میں اچھال دیا۔
گاڑی فٹ پاتھ پر موجود افراد کو کچلتی ہوئی ایک دکان کے شیشے سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں ایک خاتون دکان کے متبادل شیشے اور گاڑی کے درمیان دب گئیں۔ شدید چوٹوں کے باعث ڈاکٹروں کو اسپتال میں خاتون کی دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔
شہریوں کی جرات اور ڈرائیور کی گرفتاری
حادثے کے فوراً بعد ڈرائیور نے گاڑی سے نکل کر پیدل فرار ہونے کی کوشش کی۔ ملزم کے ہاتھ میں چاقو تھا جس سے اس نے روکنے والے ایک شہری پر حملہ کیا۔ چاقو کے وار سے ایک راہگیر کے سر پر معمولی چوٹ آئی۔
وہاں موجود چار سے پانچ بہادر شہریوں نے اپنی جان پر کھیل کر ملزم کا پیچھا کیا۔ شہریوں نے چاقو بردار ڈرائیور کو زمین پر پچھاڑ کر دبوچ لیا۔ بعد ازاں شہریوں نے ملزم کو موقع پر پہنچنے والی پولیس کے حوالے کیا۔
مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ تمام زخمی افراد کو ہیلی کاپٹر اور ایمبولینسوں کے ذریعے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 4 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے ملزم کے گھر کی تلاشی لی ہے تاہم ابھی تک کسی انتہا پسند گروپ سے تعلق کے شواہد نہیں ملے۔
اطالوی وزیر اعظم کا ردعمل
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور زخمی افراد سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اپنی پوسٹ میں جرات مند شہریوں کو خاص طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بروقت کارروائی پر اطالوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
موڈینا کے میئر ماسیمو میزتی نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کر کے شہریوں کے جذبے کی تعریف کی۔ پولیس نے واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے


















