کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے کی ٹیموں نے سرینگر، شوپیاں اور کئی دیگر اضلاع میں گھر وں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔ شوپیاں میںقائم تعلیمی ادارے سراج العلوم اور جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حریت رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
بھارتی فوج نے راجوری میں آج مسلسل تیسرے روز بھی نام نہاد آپریشن شیرو والی کے تحت محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ فوجیوں نے ڈوریمل اورگمبھیر موگلہ کے گھنے جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں، ڈرونز اور سراغ رساں کتوں کا استعمال کیا جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
دریں اثناء ایک کمسن بچی کے اغوا،بے حرمتی اور قتل کے خلاف احتجاج کے باعث ضلع بڈگام میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ گلوان پورہ سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی مقامی ٹیوشن سنٹر جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اور اگلی صبح اس کی لاش اس کے گھر کے قریب سے برآمد ہوئی جس سے پوری وادی کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔علاقے میں دکانیں اورکاروباری مراکز بند رہے جبکہ لوگوں نے گھنائونے جرم کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے این آئی اے کے تازہ چھاپوں، معصوم شہریوں کے خلاف جاری ظالمانہ کارروائیوں اورکمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے بچائے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی کمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل کے دلدوز واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے شفاف اورمقررہ وقت کے اندر تحقیقات اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بالخصوص بچوں اور خواتین کے لیے بڑھتا ہوا عدم تحفظ سخت تشویش کا باعث ہے۔
امریکہ کے شہر بالٹی مور میں ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگرکیا اور کہا کہ کشمیرمحض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل، وقار اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر فائی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بھارت، پاکستان اور حقیقی کشمیری قیادت کے درمیان بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔


















