اقوامِ متحدہ امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری ایک بیان میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے امن مشنز میں شرکت نہ صرف کثیرالجہتی تعاون سے ہماری وابستگی کا اظہار ہے بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے ہماری نمایاں ترین خدمات میں سے ایک ہے۔ 1960ء سے اب تک 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن رضاکار دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مشنز میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ہم بالخصوص اُن 183 پاکستانی امن کاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے امن پرچم تلے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کی عظیم قربانی دی۔
سفیر عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیاں بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی برادری کے پاس موجود سب سے نمایاں، عملی اور کم لاگت ذرائع میں شمار ہوتی ہیں۔ نازک اور غیر مستحکم حالات میں امن مشنز شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی، تشدد کی روک تھام میں مصروف ہیں اور یہ مشن سیاسی عمل کی معاونت، انسانی امداد تک رسائی کی سہولت اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر یقینی اور کشیدہ حالات میں ان کا استحکامی کردار مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
پاکستانی مندوب کا کہنا ہے کہ آج امن کار نہایت پیچیدہ اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن کاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ ایسے جرائم پر احتساب مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔ استثنیٰ کے خاتمے کے بغیر انصاف، امن کاروں کی سلامتی اور اقوامِ متحدہ کی کارروائیوں کے وقار کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ ایک بڑے فوجی دستے فراہم کرنے والے ملک اور سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان، اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس ضمن میں پاکستان مینڈیٹس کی تشکیل، امن کاروں کی حفاظت و سلامتی، احتساب، کارکردگی اور پائیدار مالی معاونت کے حوالے سے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے پاکستان امن کارروائیوں کی تمام اقسام کے بارے میں سیکریٹری جنرل کے جائزے اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے مستقبل پر جامع بحث کا بھی خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر ہم امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے تمام بلیو ہیلمٹس کو سلام پیش کرتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔


















