یوکرین میں امن و سلامتی کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یہ تنازع چار برس سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس نے انسانی جانوں اور لوگوں کے روزگار کو شدید متاثر کیا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان لڑائی کے تسلسل پر شدید تشویش رکھتا ہے اور حالیہ حملوں میں اضافے کی اطلاعات کی مذمت کرتا ہے، جنہوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات تنازع کو مزید طول دیتے ہیں، اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور امن کی جانب بامعنی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عام شہری اب بھی اس تنازع کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں، اور پاکستان کے اس اصولی مؤقف کا اعادہ کیا کہ شہریوں، انسانی امدادی کارکنوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک بنیادی قانونی ذمہ داری ہے، جس کی ہر حال میں تمام فریقوں کو پابندی کرنی چاہیے۔
سفیر جدون نے حالیہ عارضی جنگ بندی کے اعلانات، بشمول رواں ماہ کے تازہ اعلان، کا خیرمقدم کیا اور جنگی قیدیوں کے تبادلے اور ہلاک شدہ فوجیوں کی باقیات کی واپسی سے متعلق اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اعتماد سازی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور انہیں برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ مکمل جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
پاکستان کے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر جدون نے کہا کہ یوکرین میں پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، اور عالمی رائے عامہ بھی تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق، امریکہ کی معاونت سے، جلد مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں گے تاکہ اس تنازع کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کو ترجیح دیں، حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں اور ایک منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے تعمیری انداز میں آگے بڑھیں، جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کا احترام کرتا ہو اور اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ ہو۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازع کے جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

















