اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد محمد صفدر نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے وزارت داخلہ سے رجوع کر لیا۔ سابق وزیراعظم نے دلیل دی ہے کہ آئین کے تحت کسی بھی شخص کو اس کی آزادی کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، وفاقی حکومت نے غیرقانونی طور پر نام ای سی ایل میں ڈالا۔
مسلم لیگ ن کے قائد نے3 اکتوبرکو دی گئی درخوست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ احتساب عدالت نےانہیں کرپشن کےالزامات سے بری کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نےنیب ریفرنس میں سزا کو معطل کردیا ، نیب نے 19 ستمبر کےفیصلےکیخلاف اپیل دائر نہیں کی ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی نہ کسی بھی اور عدالت نے ای سی ایل پر نام ڈالنے کا حکم دیا ۔ وفاقی حکومت کا اقدام غیرآئینی اور غیرقانونی ہے ۔
نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ قانون پرعملدر آمد کرنے والے شہری ہیں ، احتساب عدالت نے عدم موجودگی میں سزا سنائی، ہم نے رضا کارانہ طور پر گرفتاری دی ، بیرون ملک سفر کرنا چاہتے ہیں، ای سی ایل سے نام نکالا جائے ۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی الگ الگ درخواستوں میں انہی بنیادوں پر ای سی ایل سے نام نکالنے کی استدعا کی ہے۔
دوسری جانب نواز شریف کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے مسلسل خاموشی اور ای سی ایل سے نام نہ نکالے جانے پر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
Comments are closed.