اسلام آباد: سابق جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل میں گرفتار 3 ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو ایف آئی اے نے کلین چٹ دے دی، سابق جج ارشد ملک اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد مقامی عدالت نے تینوں ملزمان کو بری کردیا۔
احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق جج کی ویڈیو ریکارڈنگ اور بلیک میلنگ کے الزامات میں گرفتار تین ملزمان کو کلین چٹ دے دی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے جج کی ویڈیو ریکارڈنگ اور اسے بلیک میل کرنے کے الزامات میں گرفتار ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو کلئیر کردیا، ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران گرفتار تینوں ملزمان کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔عدالت چاہے تو تینوں ملزمان کو رہا کردے۔
ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک اور تینوں ملزمان کی ملاقات دو روز قبل کروائی گئی، ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کےجسمانی ریمانڈ میں دوران تفتیش ملزمان اور سابق جج ارشد ملک کو آمنے سامنے بٹھایا گیا، جج ارشد ملک تینوں ملزمان پر بلیک میلنگ اور رشوت کے الزامات ثابت نہ کر سکے۔
جج ارشد ملک خرم یوسف، غلام جیلانی پر ناصر جنجوعہ کی معاونت و بلیک میلنگ بھی ثابت نہ کر سکے، تینوں ملزمان پر لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہونے پر ایف آئی اے نے انہیں ڈسچارج کرنے سے متعلق رپورٹ تیار کی۔
ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل میں گرفتار تین ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو سخت سیکورٹی میں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس لایا گیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے روبرو پیش کیا گیا، جج شائستہ کنڈی نے مقدمے کی مزید سماعت سے معذرت کرلی اور کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر یہ کیس نہیں سن سکتیں۔ وکیل کی جانب سے بار بار استدعا پر خاتون جج نے کہا کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ کیس نہیں سکتی مقدمہ کسی اور جج کے پاس بھیج رہی ہوں۔
جس کے بعد مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد کی عدالت میں منتقل کیا گیا، فاضل جج نے ایف آئی اے رپورٹ کی بنیاد پر تینوں ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور غلام جیلانی کو بری کرتے ہوئےان کے نام مقدمے سے خارج کر دیے۔
Comments are closed.