اسلام آباد: وزیرِ خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ بیل آؤٹ پیکج پاکستان کی معیشت کے لیے ناگریز ہے چاہے یہ پیکج آئی ایم ایف سے ملے چین یا سعودی عرب سے ملے۔
صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے اپنے دورۂ انڈونیشیا اور وہاں ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیرِخزانہ نے بتایا کہ آئندہ سال پاکستان کو نو ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے جس میں چین کا قرض 30 کروڑ بھی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کو چینی قرض سے جوڑنے کا امریکی الزام درست نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کا قرضہ سی پیک کی ادائیگی پر خرچ نہیں ہوگا۔۔ پاکستان نے قرض شفاف طریقے سے لیا اور اس کی تفصیل جسے چاہے پیش کریں۔ سی پیک کے قرضوں کی تفصیلات دینے میں کوئی حرج نہیں۔ہر مہینے ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب ڈالر بڑھ رہا ہے اور تیل کی بڑھتی قیمتیں درآمدات بڑھنے کا سبب ہیں۔ ملک میں دو ماہ کی درآمد کے ذخائر بھی نہیں۔ گزشتہ حکومت کے لیے عالمی ماحول ساز گار تھا لیکن اب عالمی حالات مختلف ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے پاس جانے پر ایسا ردِ عمل آیا ہے جیسے کوئی انوکھا کام کیا ہو۔ اب تک پاکستان نے 18 بار آئی ایم ایف پروگرام سائن کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ویڈیو کلپ ڈھونڈ کر دکھائیں جس میں انہوں نے کہا ہو کہ پاکستان ‘آئی ایم ایف’ کے پاس نہیں جائے گا۔ خواہش ہے کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو۔
اسد عمر نے کہا کہ عالمی حالات اور بد تر معاشی صورتِ حال کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے اعلان سے اسٹاک مارکیٹ نہیں گری بلکہ جس دن آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس دن اسٹاک مارکیٹ 600 پوائنٹ بڑھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہر ماہ دو ارب ڈالر مالیت کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ جب ن لیگ حکومت ختم ہوئی تو زرِ مبادلہ کے ذخائر 18 ارب تھے جو اب گر کر 8 ارب ڈالر تک آ گئے ہیں۔ اسد عمر نے آئی ایف کی شرائط کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کوئی کڑی شرائط عائد نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکومتی ریفارمز ایجنڈے سے متوسط طبقے پر بوجھ پڑے گا۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ادھار پر تیل لینے کی بات چیت جاری ہے۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور آئندہ چند دنوں میں روپے کی قدر میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھنے سے 95 ارب کا ملکی قرضہ بڑھا ہے۔ اس کا ذمہ دار وہی ہے جس نے معیشت کو تباہ کیا۔ جب تجارتی خسارہ بڑھے گا تو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اگر برآمدات نہیں بڑھیں تو ڈالر کی قیمت بڑھتی جائے گی۔
Comments are closed.