لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کشمیری ایل او سی کراس کرنے کیلئے نکل پڑے

سردار عمران اعظم

مظفر آباد: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں افراد ایل او سی عبور کرنے نکل پڑے، 35 سے 40 ہزار مارچ میں شریک ہیں، جو کشمیر کی آزادی اور بھارت مخالف نعرے لگاتے چکوٹھی کی طرف گامزن ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے قافلے رات گئے مظفر آباد پہنچے جس کے بعد صبح 9 بجے ایل او سی چکوٹھی سیکٹر کی جانب مارچ کا آغاز ہوا۔ اس مارچ کی قیادت قائم مقام چیئرمین حمید بٹ، وائس چیئرمین سلیم ہارون اور ڈاکٹر توقیر گیلانی کر رہے ہیں۔

مارچ کی کوریج کرنے والے ایک صحافی کے مطابق محتاط اندازے کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد سے نکلنے والے جلوس کی تعداد 35 سے40 ہزار تھی جس میں ابھی نیلم، چکوٹھی اور ہٹیاں سے مزید قافلے شامل ہوں گے، اس مارچ میں اب تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی شریک ہو چکے ہیں۔

مختلف علاقوں سے پیپلز پارٹی، نون لیگ ، مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف کے کارکنان بڑی تعداد میں مظفر آباد پہنچے۔ اس صورتحا ل میں لبریشن فرنٹ کے قائدین نے مارچ میں شامل سب سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ شرکاء مارچ کے منتظمین کی کال پر آئے ہیں تو ان کے ڈسپلن کو فالو کریں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں ان حالات کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر نے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کیا ہے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان ٹویٹ کیا اورکشمیری عوام کو ایل او سی عبور نہ کرنے کی تنبیہ کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی مدد کے نام پر ایل او سی کراس کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہوگا۔

 دوسری جانب آزاد کشمیر بھر سے تمام پولیس فورس کو پہلے ہی مظفرآباد طلب کرلیا گیا تھا اور اس وقت ایل او سی جانے والے راستوں پر سیکیورٹی فورسز کی بھارتی نفری تعینات ہے لیکن ابھی تک کسی مقام پر ریلی کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہزاروں گاڑیوں پرمشتمل یہ قافلہ صبح 9 بجے سے اب تک بمشکل 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہٹیاں کے قریب پہنچ چکاہے۔ مارچ کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد پیدل بھی چل ر ہی ہے۔

ایل او سی کی جانب رواں دواں مارچ کے شرکاء کا جوش دیدنی ہے۔ ہر طرف سے کشمیر کی آزادی اور بھارت مخالف نعرے بلند ہو رہے ہیں، کشمیری ترانے بھی بج رہے ہیں۔ریاست جموں وکشمیر اور لبریشن فرنٹ کے جھنڈے ہر طرف لہرا رہے ہیں۔اس مارچ میں بڑی تعداد بزرگوں کی بھی شامل ہے۔

دوسری جانب مارچ کے پیش نظر تحصیل چکار اور تحصیل بالا کی حدود میں تمام تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند کر دئیے گئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہاہے یہ قافلہ کل شام تک ہی چکوٹھی پہنچ سکے گا اور رات کا پڑاو ہٹیاں میں ہو سکتا ہے۔

Comments are closed.