سابق صدر پرویزمشرف نےسنگین غداری کیس میں ویڈیولنک پر بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا ۔ خصوصی عدالت نے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانےکا فیصلہ کر لیا ۔
خصوصی عدالت میں پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت کا سابق صدر کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پرویزمشرف کےوکیل سلمان صفدر نےدلائل دیتے ہوئےکہا کہ سابق صدر ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ نہیں کرانا چاہتے ، خود پیش ہوکر اپنا دفاع کرنا چاہتے ہیں ۔ جسٹس یاور علی نے استفسار کیا پرویزمشرف کےامریکن اسپتال دبئی کےمیڈیکل سرٹیفیکیٹ پر اگست کی تاریخ درج ہے ، ڈاکٹرز کو ان کی صحت کا دوبارہ جائزہ لینا تھا ۔ اس پر وکیل صفائی نے بتایا ان کےمؤکل کی صحت تاحال ویسی ہی ہے۔ جسٹس یاورعلی نے پوچھا کیا مشرف کو کینسر ہے، وکیل نے جواب دیا نہیں دل کا عارضہ ہے ۔
عدالت نے سماعت کےبعد جاری حکم میں کہا ہے کہ وکیل کےمطابق پرویزمشرف علالت کے باعث پیش نہیں ہوسکتے، ان کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جس کے اراکین اور دائرہ کار کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ۔ اگر کسی کو اعتراض ہو تو جوڈیشل کمیشن کا قیام ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ، کیس کی آئندہ سماعت 14 نومبر کو ہو گی۔
Comments are closed.