لاہور: میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض ک تشخیص کے لئے بیرون ملک بھجوانے کا مشورہ دے دیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے جینیٹک ٹیسٹنگ ضروری ہیں لیکن یہ سہولت پاکستان میں میسر نہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لئے جینیٹک ٹیسٹنگ کی ضروت پڑے گی اور اسی ٹیسٹ سے ہی نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں ہونے والی کمی کے پیچھے وجوہات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان میں جینیٹک ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہی نہیں۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص 14 روز گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہو سکی ہے، انہیں دل، گردے اور بلڈ پریشر کا مرض بھی لاحق ہے، مختلف بیماریوں کی وجہ سے پپچدگیوں کا باعث ہیں۔ اسپتال ذرائع نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کا پلیٹ لیٹس کاونٹ فی الحال چالیس ہزار ہے اور اس پلیٹ لیٹس کاؤنٹ کے ساتھ نوازشریف بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ادویات کے استعمال کی وجہ سے نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد میں اتار چڑھاؤ جاری ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک سے زائد بیماریوں کی ادویات احتیاط کے ساتھ دی جارہی ہیں۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے گزشتہ روز بھی نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تھا اوران کا نہار منہ اور کھانے کے بعد شوگر لیول بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے کنٹرول کرنے کیلئے طبی سہولت فراہم کی جارہی تھی، جب کہ نوازشریف کو پلیٹ لیٹس 50 ہزار سے تجاوز نہ کرنے کے باعث خون کے کلاٹ ختم کرنے والی دوائی کلوپیڈوگرل کو بھی روک دیا گیا ہے
Comments are closed.