گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے خوش خبری۔۔۔ مشینی گردہ ایجاد

سنگا پور: گردوں کے عارضہ میں مبتلا افراد کیلئے اچھی خبر یہ ہے کہ اب ڈائلیسس مشین ایک بیگ میں سما سکتی ہے بلکہ اسے دفتر، پارک یا کسی بھی جگہ باآسانی لے جایا جا سکتا ہے۔

 گردے ناکارہ ہو جانے کے بعد اس مرض میں مبتلا افراد کے لئے ڈائلیسس نہ صرف نہایت ہی تکلیف دہ عمل اور اس کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک بار اسپتال جانا بھی ضروری ہے۔ سنگاپور اور امریکا کے ڈاکٹرز نے یہ انقلابی ایجاد کی ہے جسے ’آٹومیٹڈ ویئرایبل آرٹی فیشل کڈنی (اویک)‘ کا نام دیا گیا ہے۔ صرف دو کلو گرام وزن کی حامل یہ ڈائلیسس مشین ایک چھوٹے بیگ میں سما سکتی ہے اور اسے کہیں بھی اٹھا کر لے جایا جا سکتا ہے۔

اس حیرت انگیز مشینی گردے کو کندھے پر لٹکا کر گھوما پھرا جاسکتا ہے۔ رات کے وقت بستر کے سرہانے رکھ کر سویا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک تھراپی میں 6 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں اور خون میں سے زہریلے مادے، نمکیات باہر نکل جاتے ہیں۔

اسمارٹ گردے میں مریض کی حفاظت کے پیش نظر ہنگامی الارم بھی نصب ہے جو خطرے کے وقت بجنا شروع کر دیتا ہے اور مریض کے ڈاکٹر سے رابطہ بھی کرتا ہے۔ لیکن اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مریض پوری ڈائلیسس مشین اپنے ساتھ لے کر چل سکتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں مریض اپنے مرض کی شدت کے لحاظ سے ایک ہفتے میں کم ازکم ایک مرتبہ اپنے خون کا ڈائلیسس کراتے ہیں۔ اس عمل میں گردے ناکارہ ہونے سے بننے والے زہریلے مرکبات صاف کئے جاتے ہیں۔ ڈائلیسس عموماً اسپتالوں میں ہوتا ہے اور مریض گویا آزاد نہیں رہتا کیونکہ اسے بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس اویک (مشینی گردہ) کو ایک بیگ ڈال کر مریض اپنے روز مرہ امور سرانجام دے سکتا ہے اور یہ سمارٹ کڈنی خودکار طریقے سے ڈائلیسس کا عمل انجام دیتا رہتا ہے۔

Comments are closed.