سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے امام سید احمد نقشبندی نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی محاصرے کے خلاف مظاہرے کریں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امام نے جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی غیرقانونی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ جامع مسجد کے اردگرد بڑی تعداد میں بھارتی فوجی تعینات کرکے اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کر رہی ہے۔
مقبوضہ وادی بالخصوص سری نگر میں خوف و ہراس کا ماحول برقرار ہے، بھارت کے غاصبانہ اقدامات کا مقصد جامع مسجد سری نگر کی مرکزیت کو ختم اور عام لوگوں کو ہراساں کرنا ہے۔ جامع مسجد کے امام سید احمد نقشبندی نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارتی کے غیرقانونی محاصرے کے خلاف مظاہرے کریں۔
دریں اثنا آج مسلسل 152 ویں روز بھی وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول برقرار ہے۔ وادی کشمیر میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں بدستور نافذ ہیں جب کہ پری پیڈ موبائل فون اور ایس ایم ایس سروسز بدستورمعطل ہیں۔ وادی میں چپے چپے پر تعینات ہزاروں بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
جموں وکشمیر پیپلزلیگ کے رہنماؤں نثاراحمد، مولوی رفیق،منطوراحمد اور عادل فاروق نے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب جموں وکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی ادارے کی قراردادوں پرعملدرآمد کرائیں۔ ادھر ضلع راجوری کے علاقے نوشہرہ میں بارودی سرینگر کے ایک دھماکے میں ایک لیفٹیننٹ سمیت چار بھارتی فوجی شدید زخمی ہوگئے۔
Comments are closed.