وزیراعظم آئی جی معطل نہیں کرسکتا توحکومت بیوروکریٹس سے کرا لیتے ہیں، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتےتو پھر الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں، چار بیورو کریٹ سے حکومت چلا لیتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ

‘اصل مسئلہ آئی جی اسلام آباد کا فون اٹینڈ نہ کرنا تھا، فون نہ اٹھا کر ہیرو بننے کا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے،آئی جی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے، اگر وزیراعظم آئی جی کو معطل نہیں کرسکتا ، تو پھر بیورو کریٹس سے ہی حکومت کرالیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اپنے اختیارات استعمال کریں گے،یہ نہیں ہوسکتا کہ آئی جیز، ایس پیز اور بیوروکریٹس عوامی نمائندوں کے فون نہ اٹھائیں۔

فواد چوہدری نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے خلاف ایک اور چارج شیٹ بھی پیش کی اور جس میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف اور تھانوں میں رشوت کی روک تھام نہ کرنے کا بھی الزام عائد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی کے تبادلے کی وجہ ان کے خلاف مختلف شکایات تھیں، آئی جی اسلام آباد کا تعاون ٹھیک نہیں تھا، اسلام آباد میں ڈرگ اور اسکولوں میں منشیات فروخت کی جارہی ہے،  پولیس نے ڈرگ مافیا کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا ایم این اے بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ لے کر آتاہے، اداروں پر پولیٹیکل اوورسائٹ ضروری ہے اور وزیراعظم کے ایگزیکٹو اختیارات ہیں وہ اپنے اختیارات استعمال کریں گے، سپریم کورٹ قابل احترام ہے وہ جوفیصلہ کرے گی وہ قبول کریں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے پارلیمنٹ آئیں، اے پی سی کی تک سمجھ نہیں آتی، یہ این آر او لینے کے لیے ہورہی ہے لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ملے گا، ہم کہہ رہے ہیں نارو وہ کہہ رہے ہیں این آر او۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنایا تو اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے؟ اپوزیشن کے پاس نیک پاک لوگ تو ہیں نہیں، جس پر ہاتھ رکھیں اس پر نیب کے چھ کیس نکل آتے ہیں۔

وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری چاہتے ہیں مقدمات نہ چلائے جائیں، عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی این آر او نہیں ملے گا۔

بنی گالہ تجاوزات کیس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا گھر سی ڈی اے کی حدود میں نہیں آتا تھا، ان کا کا گھر موہڑہ نور یونین کونسل کی حدود میں آتاتھا، تیس سال قبل یہ گھر بنا تھا جو پچھلے قوانین کے تحت بنا تھا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ دو دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1450 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، یہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہارہے، پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے، وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص سے استفادہ کیا ہے۔

Comments are closed.