اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ملکی فوجداری قوانین کے حوالے سے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں، عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی امین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عجیب فوجداری قوانین ہیں، پاکستان میں ڈکیتی پر ریپ، لڑائی میں قتل کو غیرت کا رنگ دیا جاتاہے۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قتل کے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر سماعت کی، دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ ان کاکہنا تھا کہ ہمارے ہاں عجیب فوجداری قوانین ہیں، رات کو گھروں میں ڈکیتی کے دوران ریپ ہوتا ہے، ٹرائل کے دوران ملزمان کی شناخت کا پوچھا جاتا ہے، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کرمتاثرین سے غیرضروری سوالات پوچھے جاتے ہیں۔
لڑائی کے کیس کو غیرت کے نام پر قتل کا رنگ دیا جاتا ہے، دو ہزار گیارہ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بائیس سالہ نوجوان عمران سلیم کو قتل کیا گیا، کھیل کے دوران تکرار پر قتل کے واقعے کو مجرم کی بہن کے ساتھ جوڑ کر اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ مجرم نے اپنی جیل اپیل میں ذاتی لڑائی پر قتل کو تسلیم کیا۔
سپریم کورٹ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد قتل کے مجرم عثمان کی سزائےموت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا پھانسی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Comments are closed.