اسلام آباد: کورونا وباء پر قابو پانے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، امریکی دوا ساز کمپنی گلیڈ نے اس خطرناک وائرس سے نمٹنے کیلئے ریمڈیسویئر نامی دوا تیار کرلی، جو پاکستان میں بھی تیار کی جا سکے گی۔
امریکی ادویہ ساز کمپنی کی تیار کردہ دوائی کو امریکا میں استعمال کیا گیا جس کے باعث متاثرہ افراد کے مرض کی شدت میں 30 فیصد کمی آئی ہے، امریکی فارما سیوٹیکل کمپنی نے دوا کی تیاری کیلئے دنیا کی پانچ کمپنیوں کو کنٹریکٹ دیے ہیں، جن میں ایک پاکستانی کمپنی بھی شامل ہے۔
معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے بتایاکہ امریکی کمپنی گلیڈ نے پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کی 5 ادویہ ساز کمپنیوں کو دوا تیار کرنے کی اجازت دی ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری کے بعد پاکستان میں اس دوا کی تیاری کا عمل 6 سے 8 ہفتے میں شروع کردیا جائے گا، جوکہ اینٹی وائرل انجیکشن ہے۔
معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کی مشیر تجارت رزاق داود اور کمپنی کے سی ای او عثمان خالد کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کورونا وباء سے بچاؤ کے لئے پاکستان میں تیار کی جانے والی دوا نہ صرف مقامی مارکیٹ میں فراہم کی جائے گی بلکہ 127 ممالک کو برآمد بھی کی جا سکے گی۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ کورونا وبا کیخلاف صف اول میں لڑنے والے ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل کا تحفظ ناگزیرہے، ہیلتھ ورکرزکیلئے پہلاٹریننگ پروگرام شروع کر رہے ہیں۔
اس موقع پر دواسازکمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عثمان خالد کا کہنا تھاکہ ان کا امریکی کمپنی کے ساتھ 12 مئی کو معاہدہ ہوا، دوا کے خام مال کی دستیابی اور کم سے کم قیمت کے تعین سے متعلق امور پر کام ہورہا ہے۔
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والی ڈاکٹرزاور طبی عملے کیلئے تربیتی پروگرام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے، اس حوالے سے مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)
آئی ایس پی آر کی مدد سے ٹریننگ ڈاکیومنٹری کا اجراء بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد 37 ہزار 218 تک تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 803 افراد اس وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں، کورونا وائرس کے پنجاب میں 13 ہزار 914 ،سندھ میں 14 ہزار99 کیسز رپورٹ ہیں، خیبرپختونخوا 5 ہزار 423 ،بلوچستان میں 2 ہزار 310 ، اسلام آباد 866 ،گلگت بلتستان 501 ،آزادکشمیرمیں105 کورونا کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
Comments are closed.