کراچی: کلفٹن کے علاقے میں واقع چینی قونصل خانے میں دہشت گردوں کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، رینجرز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں حملہ آور ہلاک کر دیئے ہیں۔ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے پولیس کے دو اہلکارشہید ہوگئے۔
تین دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش کی، سیکورٹی گارڈز کے روکنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔ قونصلیٹ کی حفاظت پرمامور سیکورٹی گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس دوران دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ حملے کے وقت قونصل خانے میں 50 سے زائد افراد موجود تھے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جنہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چینی قونصلیٹ میں دہشت گردوں کے داخلے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے، کارروائی میں تین دہشتگرد ہلاک ہوگئے جب کہ رینجرز اور پولیس نے صورتحال پر مکمل قابو پا لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چینی عملہ محفوظ ہے۔
واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ دو پولیس اہلکار کی لاشیں گئے جبکہ سیکورٹی گارڈ محمد جمن زخمی ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے فائرنگ کا نوٹس لے کر واقعہ کی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ وزیراعلی سندھ کا چینی قونصلر جنرل سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ چینی قونصلر جنرل نے بتایا کہ وہ اور تمام عملہ محفوظ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو عمارت کی سیکیورٹی مزید بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
کراچی پولیس چیف امیر شیخ نے دو پولیس اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ دونوں پولیس اہلکار دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں عامر اور محمد اشرف جبکہ دو شہری نیاز شاہ اور ان کا بیٹا ظاہرشاہ شامل ہیں، دونوں باپ بیٹا ویزے کی معلومات لینے کے لئے قونصل خانے آتے تھے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ چینی قونصل خانے کے اطراف میں سرچ آپریشن کے دوران ایک گاڑی کو تحویل میں لیا گیا، جب کہ سیکورٹی اداروں نے سرچنگ کے بعد قونصل خانے کی عمارت کو کلیئر قرار دے دیا ہے۔
تینوں دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے، دہشتگرد اپنے ہمراہ ہینڈ گرنیڈ، بارودی مواد اور ابتدائی طبی امداد کا سامان بھی لائے تھے۔
Comments are closed.