پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی شرح57 فیصد، 1لاکھ83 ہزار افراد جان لیوا مرض کا شکار

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی شرح 57 فیصد تک پہنچ گئی ہے، ایک لاکھ 83 ہزار پاکستانی خطرناک مرض سے متاثرہ ہیں جب کہ ملک میں صرف 25 ہزار افراد کا اندراج ہوا جن کا مفت علاج جاری ہے۔

ملک میں ایڈز کے باعث اموات کی شرح میں اضافے سے متعلق مریم اورنگزیب اور دیگر ارکان کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیا گیا جس کا جواب دیتے ہوئے صحت کی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے بتایا کہ ملک بھر میں ایڈز کے علاج کے لئے 45 مراکز کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈز کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ اس بیماری کو چھپانا ہے اور صرف تشویشناک حالت کی صورت میں لوگ اپنا اندراج کرانے آتے ہیں۔وفاقی حکومت محفوظ انجکشن، قابل تلف سرنجوں کا ایک بار استعمال، محفوظ انتقال خون اور ہسپتالوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ایوان کو مزید بتایا کہ ماضی کی حکومتوں نے ایڈز کے خاتمے یا علاج کی مد میں کبھی پیسہ نہیں رکھا۔ اس حوالے سے بیرونی ممالک اور عالمی تنظیموں کی جانب سے آنے والے فنڈز پر ہی انحصار کیا جاتا رہا ہے۔

لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ بیرونی ممالک سے آنے والے فنڈز سے متعلق حکومت کوئی پالیسی نہیں بنا سکی۔ جب ٹیسٹ کم ہیں تو مریض بھی کم نظر آتے ہیں،کورونا کی طرح ایڈز کے ٹیسٹ ہوں گے تو مریضوں کی درست تعداد پتہ چل سکے گا۔اس حوالے سے پائیدار ترقی کے اہداف کی ایڈز سے متعلق کمیٹی کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر نوشین حامد نے بتایا کہ بیرونی ایڈز فنڈ جو آتے ہیں بیرون ممالک سے دوملین ڈالر ایڈز کنٹرول کے لئے آنے والے ہیں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور آغا خان ہسپتال ملک بھر میں ایڈز کے ٹیسٹ بڑھانے کا بڑا منصوبہ لارہے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے ایوان کو بتایا کہ ایڈز پر 2030تک کی قومی پالیسی لارہے ہیں اب تک پمز میں ایک بھی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جسے ماں سے ایڈز منتقل ہوا ہو۔

Comments are closed.