بھارت کا آزادی پسند کشمیری رہنماؤں،کارکنوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا فیصلہ

سرینگر:بھارتی حکومت نے آ زادی پسند کشمیری رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے 44افسران نامز دکئے گئے ہیںجنہیں کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت جائیدادیں ضبط کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر سے شائع ہونے والے ایک روز نامے نے کہاہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے تحریک آزادی کے سرگرم افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلے میں 44 افسران کو نامزد کرکے ا نہیں مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔

مزید لکھا ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے قانون ”یو اے پی اے “پر عملدرآمد کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔اخبار کے مطابق نامزد افسران کو آزادی پسند رہنماؤں اورکارکنوں سمیت تحریک آزادی میں شامل تما م افراد کی نشاندہی کرکے ان کی جائیداد یںضبط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا گیا ہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارتی کی مختلف ریاستوں میں انسانی حقوق اور آزادی کے لئے آوازاٹھانے والے افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔

 نامزد افسران کو اس مقصدکیلئے کام شروع کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ جائیدادوں کی ضبطی کا عمل جموںوکشمیر سے ہی شروع کیاسکتاہے کیونکہ کشمیری عوام کی تحریک آزادی ایک بہت بڑی تحریک ہے۔

Comments are closed.