اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربینچ نے سانحہ ماڈل ٹاون پر نئی جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ نئی جے آئی ٹی بنانے پر پنجاب حکومت کوکوئی اعتراض نہیں۔۔۔ پنجاب حکومت کے موقف کے بعد عدالت نے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔
سماعت کے موقع پر عوا می تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے موقف اختیارکیاکہ ماضی میں پراسیکیوشن اور پولیس اس وقت کی حکومت کے ہاتھ میں تھی۔۔ حکومت بدلی تو ہمیں انصاف کی امید پیدا ہوئی۔
وکیل عوامی تحریک نے کہاکہ جے آئی ٹی ابھی بھی بنائی جا سکتی ہے۔پہلی جے آئی ٹی نے زخمیوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے۔۔ چیف جسٹس نے طاہر القادی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کے دروازے انصاف کے لیے کھلے تھے، آپ نے دھرنا دے کر عدالت کا کام بھی روک دیا۔۔آپ کے لوگوں نے عدالت کی دیوار پر پھٹی
ہوئی قمیضیں لٹکائیں اور عدالت کی تکریم میں کمی کی۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ اگر ایسا ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ نئی جے آئی ٹی بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بس تو پھر کیا ہے، جائیں اور جے آئی ٹی تشکیل دیں، جس پر سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگومیں طاہر القادری نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے عمل سے پیغام دیاہے کہ انصاف کی فراہمی کا دروازہ کھلا ہے۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ بیریئرہٹانے کے لیے ایل ڈی اے نے کوئی نوٹس نہیں بھیجا تھا،،،دہشتگردی کے بارے میں فتویٰ دینے کے بعد گھر کے باہر بیریئرلگایا۔
Comments are closed.