ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں اُنہیں لانے والوں اور ریاست کے متوازی نظام سے ہے، نواز شریف

 پیپلز پارٹی کی میزبانی میں کثیر الجماعتی کانفرنس میں سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل  کی اصل وجہ ریاست کے اندر ریاست نہیں بلکہ ریاست سے اوپر ریاست اور متوازی نظام حکومت ہے۔ اپوزیشن کا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ انہیں مسلط کرنے والوں سے ہے۔

سابق وزیرعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کی ہے ۔ اپوزیشن کی اے پی سی میں اپنے ویڈیو خطاب میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم  عمران خان  کا احتساب  کب ہو گا ۔ عمران خان کے پاس زمان پارک گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے، کیا کوئی پوچھے گا؟ چینی کی قیمت بڑھانے میں عمران خان کی ذات ملوث ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دینے والوں کو جواب دینا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ڈکٹیٹر کے بنائے ادارے نیب کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی ۔ نیب اندھے حکومتی انتقام کا آلہ کار بن چکا ہے ۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال ڈھٹائی سے اپنے عہدے پر براجمان  اور اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں ۔ سوال اٹھایا کہ بنی گالہ میں عمران خان کے ذاتی گھر کی فائل کیا یوں ہی بند رہے گی ۔

انتخابی دھاندلی پر سابق چیف الیکشن کمشنر و فریقین سے جواب طلب

انہوں نے کہا کہ اس عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے سنگین جرم کے ذریعے عوامی رائے کے خلاف نا اہل لوگوں کو عوام پر مسلط کیا گیا، ہے، کیا پوچھنے کی جسارت کر سکتاہوں کہ 2018  کے انتخابات میں آر ٹی ایس کیوں بند رکھا گیا، پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا، دھاندلی کیوں کر۔۔۔؟ کس نے۔۔۔؟ اور کن مفادات کے لئے کس کی خاطر کی۔۔۔؟ اس حوالے سے سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ فریقین کو جواب دینا ہوگا۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، پاکستانی روپے کی قدر افغانستان اور نیپال سے بھی نیچے چلی گئی ہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے دو سالہ حکومت میں ڈیڑھ کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ نالائق حکومت نے ہر معاملے پر یو ٹرن لیا، سرمایہ کاری ختم ہو چکی، سی پیک کنفیوژن کا شکار ہے۔

کٹھ پتلی حکومت کو دیکھ کر بھارت نے کشمیر کا حصہ ہڑپ لیا، نواز شریف

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ جو ملک ووٹ کو عزت نہیں دیتے وہ اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں رہتے خاص طور پر جب دشمن آپ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔ کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ کئی سالوں سےجاری ہے، کشمیر کو ہڑپ کرنےکا مسئلہ پہلی مرتبہ دیکھنےکو ملا،بھارت نےپاکستان میں کٹھ پتلی حکومت کافائدہ اٹھایااورہم احتجاج بھی نہ کرسکے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبےکے تحت وہ بیانات دیئے جس سے پاکستان کے بہترین دوست سعودی عرب کی دل آزاری ہوئی، کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پراعتماد کرنا چھوڑ گئےہیں۔

منتخب حکومت کے علم میں لائے بغیر کارروائیاں کردی جاتی ہیں، نواز شریف

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جانتے ہیں کہ سول حکومت کے گرد کس طرح شکنجے کس دیئے جاتے ہیں، منتخب صدر اور وزیراعظم کے علم میں لائے بغیرکارروائیاں کر دی جاتی ہیں، جس کی قیمت ملک و قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

چار سال قبل جب قومی سلامتی کے اجلاس میں دوست ممالک کی شکایات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ تو اسے ڈان لیکس بنا دیا گیا، ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی، ثبوت تو کسی کے پاس کچھ نہیں تھا کہ لیکن منتخب وزیراعظم یعنی مجھے غدار اور ملک دشمن ٹھہرا دیا گیا، ملک کے وزیراعظم کے احکامات کو ایک ماتحت ادارے کے ترجمان کی ٹویٹ میں ’ریجیکٹڈ‘ یعنی مسترد شدہ قرار دے دیا گیا۔

سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی منصوبے جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، نواز شریف

مسلم لیگ نواز کے قائد نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ناکام بنانے کا سلسلہ تحریک انصاف نے 2014 میں دھرنے کے ذریعے شروع کیا، جس کی وجہ سے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنا دورہ ملتوی کرنا پڑا۔اس کے باوجود پاکستان اور چین کے درمیان مثالی تعلقات کی بڑی وجہ صدر شی جنگ پنگ ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے گیم چینجر منصوبے کے ساتھ پشاور کے بی آر ٹی منصوبے جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، جہاں پر کبھی بسوں میں آگ لگ جاتی ہے تو کبھی بارش ناقص تعمیرات کا پول کھول دیتی ہے۔

ڈکٹیٹر کے بنائے ادارے نیب کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی، سابق وزیراعظم کا اعتراف

قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کے بنائے گئے ادارے کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی، یہ ادارہ اب اندھے حکومتی انتقام کا آلہ کاربن چکا ہے، اس کا چیئرمین جاوید اقبال اپنے عہدے اور اختیارات کا انتہائی نازیبا اورمذموم استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا ہے اور شفافیت کے دعویدار عمران خان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، جاوید اقبال بھی ڈھٹائی سے چیئرمین نیب کے عہدے پر براجمان ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ جلد یوم حساب آئے گا، نیب کا ادارہ انتہائی بدبودار اور اپنا جواز کھو چکا ہے، اپوزیشن کے لوگ اس ادارے کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور گھر کی خواتین کے ساتھ عدالتوں میں رُل رہے ہیں، نیب سے بچنے والے ایف آئی اے اور وہاں سے بچ جانے والوں کو اے این ایف کے ہتھے چڑھا دیا جاتا ہے۔

بلوچستان حکومت گرانے کا مقصد سینیٹ انتخابات میں سامنے آ گیا، نواز شریف

نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ سینیٹ انتخابات سے قبل ایک مذموم سازش کے ذریعے بلوچستان کی صوبائی حکومت گرا دی گئی، جس کا اصل مقصد سینیٹ کے انتخابات میں سامنے آیا، اس سازش کے کرداروں میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا نام آیا ہے جو اس وقت کور کمانڈر تھے۔

 اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ وہی عاصم سلیم باجوہ ہیں جن کے اثاثوں کی تفصیلات قوم کے سامنے آ چکی ہیں، ان حقائق چھپا کر ایس ای سی پی کے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا، 15 سے 20 سال کے عرصے میں اتنے اثاثے کہاں سے بن گئے، کسی نے کوئی تحقیقات کیں، عمران خان نے بھی اثاثوں کے ذرائع پوچھنے کی جرات نہ کی، بلکہ انہیں ایمانداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا گیا۔

انہوں نےکہا کہ ٹی وی چینلز پر اس اسکینڈل کا ذکر اس وقت آیا جب عاصم باجوہ خود تردید کے لئے سکرینوں پر آئے، یہ پہلاسکینڈل نہیں بلکہ کئی اسکینڈلز سامنے آچکے ہیں، جس کا نقصان پاکستان کی عوام کو پہنچا۔ حکومتی شخصیات آٹے، ادویات اور چینی کی قیمتیں آسمان تک لے گئے، جب ہم نے چھوڑا تھا اس وقت چینی پچاس روپے تھی اب سو روپے تک پہنچ چکی ہے، آٹے اور ادویات کی قیمتیں بڑھا کر اربوں روپے لوٹ لئے گئے۔

نیب عمران خان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر کوئی ایکشن نہیں لے گا؟ نوازشریف

کرپشن مافیا اور لوٹ مار کا ڈھنڈورا پیٹنے والے وزیراعظم چینی کی قیمتوں میں اضافےمیں ملوث ہیں، کیا اس پر وزیراعظم سے پوچھ گچھ ہو گی،علیمہ خان کے اثاثوں کی کوئی چھان بین نہیں ہوگی، عمران خان کی بنی گالا میں غیرقانونی رہائشگاہ کی فائل اسی طرح بند رہے گی، فارن فنڈنگ کیس میں بے پناہ بے ضابطگیاں ہیں، کیا اتنے سال گزرنے کے باوجود الیکشن کمیشن ان پر فیصلہ نہیں کرے گا، ان سوالات کا اب تک کوئی جواب نہیں آیا کب تک انتظار کرنا پڑے گا؟

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹیرینز کے اثاثوں کی تفصیلات میں عمران خان نے دو لاکھ تراسی ہزار ٹیکس دیا، آمدن کم ہے تو زمان پارک لاہور کے کروڑوں روپے اخراجات کہاں سے آئے، کیا نیب عمران خان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر کوئی ایکشن نہیں لے گا؟ نیب کو اپوزیشن کے علاوہ ایسے کیس نظر نہیں آتے۔ ریاست مدینہ تو بہت بلند معیارہے، قانون کا ادنیٰ معیاررکھنے والی ریاستوں میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔

کیا ہم ایسا پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ نواز شریف

مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ قوم کب تک دیکھنے اور جاننے کے باوجود یہ سب کچھ خاموشی سے سہتی رہے گی، کیا ہم ایسا پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑنا چاہتے ہیں۔۔۔؟ اگر میں تو کہوں کہ ہرگز نہیں، کبھی بھی نہیں۔۔۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا

دل بغض و حسد سے رنجور نہ کر ، یہ نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر

نااہل و کمینہ کی خوشامد سے جنت بھی ملے تو منظور نہ کر

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اور حکمت عملی سیاستدانوں کے لئے تھی اب ہر شعبے اور ادارے میں یہی کچھ ہو رہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی جیسے باضمیر اور دباؤ میں نہ آنے والے ججوں کو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے، لیکن اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ہیں اور تقسیم ہونے سے انکار کرتے ہیں، اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ کثیرالجماعتی کانفرنس تاریخ کا بڑا سنگ میل بن سکتی ہے۔

میثاق جمہوریت کی بنیاد پر نئے میثاق کی ضرورت ہو تو اس پر غورکیا جانا چاہیے، نواز شریف

سابق وزیراعظم نے کہا کہ آرٹیکل چھ کے سنگین ملزم کو آئین میں ترمیم کا اختیار عطا کیا جاتاہے ایسے تمام تماشے آپ نے دیکھے ہیں،یہ سب کچھ ہو رہا ہے کہ منتخب وزرائے اعظم کو قتل کریں، پھانسی دیں اور جلا وطن کریں، میثاق جمہوریت کی بنیاد پر نئے میثاق کی ضرورت ہو تو اس پر غورکیا جانا چاہیے۔ اپنی مرضی مسلط کرنے کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کے صورت میں سامنے آیا لیکن اسے بھی نظر انداز کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ متوازی حکومت کے مسئلے کے حل کیلئے ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے، نااہل، سلیکٹڈ حکومت اور متوازی نظام سے نجات حاصل کرنا ہے، نواز شریف نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کا مقابلہ عمران خان سے نہیں اور وہ ہمارا ہدف نہیں، بلکہ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے، ان کے خلاف ہے جو نااہل لوگوں کو بٹھانے والوں کے خلاف ہے، یہ ملک ہمیں تمام چیزوں سے عزیزہے، جہاں جج صاحبان کو بھی نشانہ بنا لیا گیا ہے، یہ ظالمانہ نظام ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا۔

فوج حلف کی پاسداری،سیاست سے دور رہ کرعوامی حکومت میں داخلت نہ کرے، نواز شریف

نواز شریف کا کہنا تھا کہ دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے مضبوط ملک کے ساتھ ساتھ مضبوط دفاعی نظام کی بھی ضرورت ہے، ہم نے پہلے بھی ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا ہے قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ معیشت کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کو بھی مضبوط سے مضبوط تر بنائیں، ماضی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی یہی ترجیح رہے گی۔ دفاع اور قومی سلامتی کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ مسلح افواج اپنے دستوری حلف اور قائد کی تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ  کسی کے کہنے پر وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگ کر وزیراعظم ہاؤس میں منتخب وزیراعظم کو گرفتار نہ کیا جائے، ہم نے ایسا مشاہدہ کیا ہے اور یہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں، ایسے اقدامات سے ہم نے ملک کا تماشا بنا دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ کثیرالجماعتی کانفرنس نے اتفاق رائے سے جو بھی لائحہ عمل دیا، مسلم لیگ ن اس کا بھرپور ساتھ دے گی، شہباز شریف اور دیگر قائدین یہاں بیٹھے ہیں ہم بھرپور ساتھ دیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Comments are closed.