پاکستان میں اچھا علاج مالدار یا با اثر ہی کروا سکتا ہے، چیف جسٹس

راولپنڈی: چیف جسٹس ثاقب نثارنے ڈیمز فنڈز میں مزید 3 لاکھ روپےعطیہ کردئیے۔ ان کا کہنا ہےکہ  پاکستان میں علاج وہی کروا سکتا ہے جو  پیسے والایا بااثر ہو،،خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں ایک بستر پر 3،3 مریض دیکھے ،یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہارٹ اسٹروک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صرف امیر اور باثرافراد کا علاج اچھا ہوتا ہے،غریب کو پوچھنے والاکوئی نہیں، اسپتالوں میں بنیادی مشینری ہی نہیں۔

 چیف جسٹس نےکہا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرزخراب ہیں، جوٹھیک  ہیں، وہ سفارشیوں کے لیے  ہیں، صحت کے شعبے کی خراب حالت ،حکومت کی مکمل ناکامی کاثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ادویات کی قیمتوں کا نیا فارمولا طے کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے ججوں سے بھی چندہ لے کر اسپتالوں کو دیا۔

Comments are closed.