اسلام آباد: دفترخارجہ نے کہا ہے امریکہ کا پاکستان کو مذہبی آزادیوں پر بلیک لسٹ میں شامل کرنا تعصب پر مبنی فیصلہ ہے، پاکستان کو اقلیتوں کےحقوق پر کسی ملک کے مشوروں کی ضرورت نہیں ،ٹرمپ انتظامیہ امریکہ میں بڑھتے اسلاموفوبیا پر توجہ دے۔
پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا امریکی اعلان مسترد کر دیا ہے دفتر خارجہ کی جانب سے امریکی جیوری کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار پاکستان سے تعصب برتنے کے مرتکب ہے۔
دفترخارجہ نے کہا ہے پاکستان ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے، جہاں مختلف عقائد کے لوگ اکٹھےرہتے ہیں ، پاکستانی آبادی کا 4 فیصد عیسائی ، ہندو، بدھ اور سکھ عقیدے سے تعلق رکھتا ہے، اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک پاکستانی آئین کا اصول ہے ، پارلیمنٹ میں اقلیتوں کیلئے نشستیں مختص کی گئی ہیں ، اقلیتوں کے تحفظات سننے کے لئے متحرک اور آزاد قومی کمیشن قائم ہے ، پاکستان میں حکومتوں نے اقلیتوں کے تحفظ کو ترجیح دی ہے ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر انسانی حقوق کے علمبرداروں نےآنکھیں بند کررکھی ہیں ، پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جانا امریکی جیوری کے تعصب ظاہر کرتا ہے ، امریکہ میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات جاننے کی ضرورت ہے، پاکستان کو اقلیتوں کے حقوق پر کسی ملک کے مشوروں کی ضرورت نہیں ۔
خیال رہے کہ امریکا نے پاکستان سمیت دیگرکئی ممالک کو مذہبی آزادی کے منافی کام کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔
Comments are closed.