اسلام آباد: پناما ریفرنس میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم نوازشریف ایک اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا سامنا کریں گے۔ سپریم کورٹ نے پاکپتن اوقاف اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ جس کی سربراہی ڈائریکٹرجنرل نیکٹا خالد داد لک کریں گے، خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے بھی ٹیم میں شامل ہوں گے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکپتن اراضی کیس کی سماعت کی۔ 80 کی دہائی میں بطور وزیراعلیٰ پنجاب اوقاف کی زمین نجی ملکیت میں دینے کے الزام پر نوازشریف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات پر آمادہ ہوگئے۔ نواز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا جس میں موقف اپنایا گیا کہ عدالت جس کو مناسب سمجھے تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دے۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میاں صاحب جے آئی ٹی کا رسک لے رہے ہیں، کیا نواز شریف نے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے، نوازشریف کہتے ہیں سیکرٹری نے جعلی منظوری دی۔ حالانکہ نوازشریف کی منظوریاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ یہ بات ان کی یاد داشت میں نہیں۔ نوازشریف کے وکیل سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے بقول اراضی ڈی نوٹیفائی نہیں کی۔ یہ بات غلط ثابت ہوگئی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے اس کا اندازہ ہے؟
عدالت نے ڈائریکٹر جنرل نیکٹا خالد داد لک کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔ آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی جے آئی ٹی میں شامل ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جے آئی ٹی کے قواعد و ضوابط طے کرنے اور آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی ممبران کو 27 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
Comments are closed.