اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو پاکستان کڈنی اینڈلیورٹرانسپلانٹ اسپتال کنٹرول سنبھالنے کیلئے قانون سازی کی سمری پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے جب کہ انتظامی کمیٹی میں سرجن جنرل آف پاکستان کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کہتے ہیں 34 ارب روپے میں 5 اسپتال بن جاتے ہیں، 22 ارب روپے لگا دیئے لیکن ایک لیورٹرنسپلانٹ نہیں ہوا۔یہ براہ راست کیس نیب یا انٹی کرپشن کو دینا چاہیے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اسپتال کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر پوچھا تھا ٹرسٹ کا کیا کرنا ہے۔22 ارب روپے خرچ کر دیے، ساری رقم ایک ٹرسٹ کو دے دی، دو مرتبہ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا قانون تبدیل کر رہے ہیں، پہلا سوال یہ ہے کہ ٹرسٹ کو رہنا چاہیے یا نہیں۔
عدالتی استفسار پر ڈاکٹر سعید اختر نے بتایاکہ انہیں 3سال ہوگئے ہیں۔ پی کے ایل آئی سے کوئی تنخواہ نہیں لی،21کڈنی ٹرانسپلانٹ کئے ہیں، کینسر کا علاج بھی کئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ جگر کے ٹرانسپلانٹ کیلئے تھا، گردوں کے آپریشن تو دوسری جگہوں پر بھی ہو رہے ہیں،آپریشن تھیٹرفعال نہیں ہے، ڈاکٹر سعید سے مکالمے کے دوران کہا کہ وہ شہباز شریف کے بڑے قریب تھے، اگر کہیں تو بتادوں گا کہ شہباز شریف سے کیسے ملے تھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ یہ سمجھائیں کہ پی کے ایل آئی کیلئے ٹرسٹ کی ضرورت کیا ہے،ٹرسٹ تو ایک خاص تعلق کی وجہ سے سابق وزیر اعلی نے بنایا تھا،،کیا ٹرسٹ نے کبھی اپنا مالی حصہ ڈالا ہے۔جون میں ایک لیور ٹرانسپلانٹ کا بھی آپریشن نہیں ہو سکا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 34 ارب روپے میں 5 اسپتال بن جاتے ہیں،یہ براہ راست کیس نیب یا انٹی کرپشن کو دینا چاہیے،22 ارب روپے لگادیئے لیکن لیور ٹرانسپلانٹ کا ایک آپریشن نہیں ہوا، ایک بچے کا آپریشن نہیں ہوا جبکہ ڈونر بھی موجود تھا،ابھی بھی جون تک یہ لوگ آپریشن کے لیے تیار نہیں ہیں، کام ایک نہیں ہوا اربوں روپے تنخواہوں کی مد میں چلے گئے۔
چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی کام نہیں ہو رہا، حکومتی کارکردگی سست روی کا شکار ہے،ہیلتھ کئیر کے سارے کام پنجاب میں رکے ہوئے ہیں۔ ابھی تک ہیلتھ کئیر بورڈ نہیں بنا، بات کرو تو سرخیاں لگ جاتی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ پی کے ایل آئی کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے قانون سازی کی سمری پر صوبائی کابینہ دو ہفتے میں فیصلہ کرے،،، پی کے ایل آئی انتظامی کمیٹی میں سرجن جنرل آف پاکستان کو شامل کرے، اس بارے میں ایک ہفتے میں پاک فوج اور سرجن جنرل کی رضامندی لی جائے، مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.