پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف پارٹی اور اپنے بھائی نواز شریف سے وفادار نہ ہوتے تو آج ملک کے وزیراعظم ہوتے۔ جعلی حکمرانوں سے کوئی مذاکرات ہوں گے اور ناں ہی پی ڈی ایم سے حکومت کو این آر او ملے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت کیلئے جان دی، بی بی شہید اور نوازشریف نے ملک کو میثاق جمہوریت دیا، جس سے ملک کی تاریخ بدلی، بلاول بھٹو اور میں میثاق جمہوریت کو آگے لے کرچلیں گے۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے کئی بارمذاکرات کی پیشکش ہوئی لیکن نواز شریف کا فیصلہ اٹل ہے، جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور پی ڈی ایم سے حکومت کو این آر او نہیں ملے گا، جب ان کو جواب نہیں ملا تو دیگر لوگوں کو بھیجا جارہاہے، محمد علی درانی سے پہلے حکومتی وزراء کے پیغام ملتے رہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ شہبازشریف جیل میں ہیں انہیں کیا پتہ کون ملاقات کیلئے آرہاہے، اس وقت انکار نہیں کرسکتے، شہبازشریف نے تمام آفرز کو ٹھکرایا اس لئے بیٹے سمیت جیل میں ہیں، ان سے جیل میں خاندان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن محمد علی درانی جیسے لوگوں کو ملنے کی اجازت دینا آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ یہ بات ہمیشہ ثابت ہوئی ہے کہ میاں شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف اور پارٹی سے بہت زیادہ وفادار ہیں، اگر وہ وفادار نہ ہوتے اور دھوکا دیتے تو اس نالائق کو وزیراعظم بنانے کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ آج وہ خود وزیراعظم ہوتے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت بحران کا شکارہے، حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے ان کی کارکردگی اتنی بری ہے کہ اگلا الیکشن یہ ووٹ کے ذریعے نہیں جیت سکتے اور اس بات کا انہیں بھی اندازہ ہو چکا ہے، سینیٹ کے الیکشن آگے کرلیں یا پیچھے حکومت کو گھر جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں ملکی مسائل کے بجائے پی ڈی ایم زیربحث آتی ہے، بلاول جلسے میں نہیں آتے تو کہتے ہیں پی ڈی ایم میں دراڑیں پڑگئیں، جے یو آئی کو توڑنے کی کوشش ہوئی تو اس پر بیک فائر ہوا، تحریک انصاف کی خام خیالی ہے کہ وہ ن لیگ کے لوگ توڑ لیں گے، ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ غیرمحسوس کردار آج سب کونظر آرہے ہیں۔
مریم نواز نے بتایا کہ انکے اراکین نے 31 دسمبر تک اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کروانے ہیں، اب تک ن لیگ کے 159 اراکین پنجاب اسمبلی اور95 فیصد ایم این ایز کے استعفے میرے پاس آچکے ہیں، پارٹی میں اکثریت کی رائے ہے کہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے لیکن حتمی فیصلہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پی ڈی ایم کرے گی۔
Comments are closed.