ملتان: چلڈرن اسپتال ملتان میں کروڑوں روپے کی مشینری لگانے کے باوجود اوپن ہارٹ سرجری اور نیورو سرجری شروع نہ کی جا سکی جب کہ فنڈز کی عدم دستیابی پر بون میرو پلانٹ کا منصوبہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
چلڈرن اسپتال ملتان کے دو ارب کے توسیعی منصوبے میں ایمرجنسی وارڈ نہیں بنایا گیا جب کہ 382 بیڈز پرمشتمل اسپتال میں کروڑوں روپے کی جدید مشینری لگانے کے باوجود تاحال اوپن ہارٹ اور نیوروسرجری کا بھی آغاز نہیں ہوسکا اور رہی سہی کسر فنڈز کی عدم دستیابی پر بون میرو پلانٹ کا منصوبہ بند کر کے پوری کردی گئی ہے۔جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال میں اسپتال صرف مسائل کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔
اسپتال کا مفت ادویات کیلیے مختص سالانہ بجٹ 82 ملین ہے لیکن بجٹ کی فراہمی میں تاخیری حربوں پر انتظامیہ نے ان ڈور میں مفت ادویات کا سلسلہ گزشتہ تین ماہ سے بند کردیا ہے۔جس کا مریضوں کے لواحقین نے صوبائی وزیرصحت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔
چلڈرن اسپتال میں لواحقین کے بیٹھنے کا بھی مناسب بندوبست نہیں جب کہ پارکنگ میں ٹھیکیداروں کی اوورچارجنگ نے مریضوں کے لواحقین کی معاشی مشکلات بھی مزید بڑھا دی ہیں۔
Comments are closed.