اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سپریم کورٹ کو اصغر خان عملدرآمد کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کردی ہے۔ اور موقف اپنایا ہے کہ فوجداری کارروائی کے لئے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔
اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔ ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن سیاستدانوں پر الزام تھا انہوں نے رقم کی وصولی سے انکار کیا اور ایف آئی اے ایف آئی اے کے پاس اتنے شواہد نہیں کیس پر فوجداری کاروائی ہو سکے ۔ اہم گواہوں کے بیانات میں تضاد ہیں، گواہوں کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے، متعلقہ بنکس سے پیسہ اکاونٹس میں جمع ہونے کا مکمل ریکارڈ نہیں ملا، معاملہ پچیس سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اصغرخان کیس میں بڑے بڑے سیاستدانوں پر نوے کے الیکشن میں پیسہ لیکر دھاندلی کرانے کا الزام تھا ۔ سپریم کورٹ نے نوے کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دھاندلی کیلئے رقوم تقسیم کرنے کے معاملہ کی ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔
اصغر خان کیس عدالتی تاریخ میں نہایت اہم اور بڑے مقدمات میں شامل ہے۔ نوازشریف ، شہبازشریف ، جاوید ہاشمی، عابدہ حسین ، الطاف قریشی، سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ سمیت بڑے نام اس کیس میں شامل ہیں۔ جنہیں اب ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
Comments are closed.