عمران خان کی ماضی میں کی گئی دل کو چھو لینے والی باتیں حکومت اور عوامی امنگیں۔۔۔

بیٹھک سپین

سیاسی پوسٹ: عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے ان کی باتیں دل کو چھو لینے والی تھیں۔ اور ہوتی بھی کیوں نہ۔ ایک زمانے سے دو جماعتوں کی باری باری حکومتوں نے اپنے خاندانوں اور قریبی لوگوں کو نوازتے ہوۓ عوام کا کچومر نکال دیا تھا۔ اور رہی سہی کسر فوجی ڈکٹیٹرز نے۔ اب عوام ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے اور عوام کو قابو کرنے کے لیے علاقے کا محرر یا ایس ایچ او ہی بہت تھا۔ اور دوسری طرف عوام نے اس ذلالت کو اپنی تقدید سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ جب کوئی قوم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کرے یا ایسے لوگوں کا ساتھ نہ دے جو ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے جو اس ملک خداداد میں ہوتا رہا ہے۔

باقی برطانوی راج کی دی ہوئی ٹریننگ کو بھی قبیلوں اور علاقوں کے وڈیروں، چودھریوں اور پردانوں نے خوب استعمال کیا۔ جس میں فرد واحد کی کوئی حثیت نہیں ہوتی۔ آپ کو ایک گروپ ، برادری یا قبیلہ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر ساری بات ریوڑ ہانکنے والے سے طے ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے اس ملک کے عوام بھی اس ریوڑ کی طرح ہانکے جانے پر اعتراض نہ کر سکے کیونکہ ان کو اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں تھا اور نہ اب تک ہے۔ اور نتیجہ کے طور پر دنیا کے بہترین ڈاکٹر، انجینیر، سماجی کارکن، استاد پیدا کرنے والی قوم علاج معالجے، بنیادی سہولیات کے فقدان، بھوک و افلاس اور کم علمی کا آج تک شکار ہے۔

مختصر یہ کہ عمران خان کی حکومت لانے میں عمران خان کی محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومتوں کی نااہلی بھی شامل تھی۔ عوام بیچارے لاٹری والے چکر میں تھے اگر انعام نکل آیا تو وارے نیارے ورنہ ذلیل و خوار تو ہو ہی رہے ہیں۔ لیکن کیا عمران خان کی حکومت اب تک عوام کی امنگوں پر پوری اتر سکی؟

اس کا جواب آپ بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن میری رائے کے مطابق وہ کچھ نہیں ہو سکا جو ہونا چاہیے تھا۔ جس میں کچھ حد تک اس بات کا عمل دخل بھی ہے کہ ہمارے ملک میں اداروں کی ری سٹریکچرنگ کی اشد ضرورت ہے ورنہ ووٹ لینے کے لیے وقتی تبدیلی کوڑے پر مٹی ڈالنے کے مترادف ہو گی۔ اس بات کا احساس اس حکومت کو ہے اس لیے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے لیکر ماحولیاتی اداروں کے قوانین میں ترامیم یا سرے سے نئے قوانین لاۓ جا رہے ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کی بات ہے تو ان کی بات میں یہاں تک وزن ضرور ہے کہ جتنے نعرے لگے تھے وہ کام نہیں ہوا کیونکہ ناتجربہ کار وزیروں اور مشیروں کی فوج اور ان کی نالائقیاں خان کو بھاری پڑھ رہی ہیں۔

اب وقت بہت تھوڑا ہے اور حکومت کے پاس تقریباً اڑھائی سال باقی بچے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی جانیے کہ اپوزیشن اے پوزیشن لی ہی نہیں جا رہی۔ انہوں نے تو خواب میں بھی تیسری جماعت کی سیاست اور پھر اس طرح عوامی پزیرائی کا سوچا تک نہ تھا۔ لیکن آج کا یہ کالم جس ایک اچھی چیز اور کسی حد تک حکومت سے سرزد ہونے والے اچھے فیصلے کے بارے میں ہے وہ ہے پوری دنیا کی طرح حکومتی کاموں اور منصوبوں میں پرائیوٹ اور غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کی شمولیت۔۔ اس حوالے سے اس حکومت کو داد دینی پڑے گی کہ جس طرح انہوں نے سیلانی ویلفیئر اور اخوت کو اپنے ساتھ لیا ہے یہ کسی معجزے سے کم نہیں کیونکہ سیلانی اور اخوت کا ٹریک ریکارڈ بہت اچھا ہے خاص کر اخوت کا نیٹ ورک اور سیلانی کے کاموں میں نئی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومت سے َََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََ زیادہ عوام کے لیے مفید ثابت ہو
گا۔

ہم سب کو بھی سیاسی یا ذاتی اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے اچھے کام کی تعریف اور غلط کام پر تنقید ضرور کرنی چاہیے۔ اور ہر وہ کام جو ہمارے عوام اور ملک کے مفاد میں ہو اس کو کرنے والا کوئی بھی ہو تو اس کی تعریف بنتی ہے۔ میرے ہم وطنوں کو بھی سیاسی و سماجی بلوغت کا ثبوت دینا ہو گا۔

Comments are closed.