حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے کہا کہ آج شخصیات کی نہیں جمہوری عمل کی فتح ہوئی، جمہوریت بہت قیمتی ہونے کے ساتھ نازک بھی ہے۔ میں امریکی آئین کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں۔ آج ہم ایک امیدوار نہیں خاص مقصد کی کامیابی منا رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی کیپٹل ہل پر حملے نے جمہوریت کی بنیادیں ہلادی تھیں۔
صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہمیں نفرت، تعصب،نسل پرستی اور انتہاپسندی کاسامنا ہے۔ ہماری حکومت کے لیے کورونا وائرس اور سفید فام برتری سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ کورونا نےجتنےامریکیوں کی جانیں لیں اتنا نقصان ہماراجنگوں میں نہیں ہوا۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے جوبائیڈن نے کہا کہ وہ اتحادیوں سے پیدا ہونے والی دوریاں ختم کریں گے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے۔ امریکا داخلیت پسندی کی پالیسی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنے عہدے کو جس انداز میں پیش کریں گے ہمیں اُسی نظر سے دیکھا جائے گا۔
ہم ایک بار پھر امریکا کودنیا میں اچھائی کی سب سےبڑی طاقت بنائیں گے۔ ہم سب کاایک ہونا ہی آگے جانے کا راستہ ہے۔ اختلافات کے باوجود ہم ایک دوسرے کےساتھ عزت واحترام سے پیش آسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہم پریقین رکھتے ہیں ان کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔ ہمیں اختلافات کوجنگ میں نہیں بدلناچاہیے۔ دنیا امریکا کو دیکھ رہی ہے، ہم امن کیلیے مضبوط پارٹنر ثابت ہوں گے۔ تشدد کے بغیرتحمل اور برداشت سے بھی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔
Comments are closed.