اسلام آباد: پاک فوج کے ایک بہادر سپوت کیپٹن کرنل شیرخان کا 49واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔کیپٹن کرنل شیر خان نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے بے پناہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کردئیے۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید یکم جنوری 1970ء کو صوابی کے ایک گاؤں نواں کلی میں پیدا ہوئے۔۔ انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور بعد میں 14 اکتوبر 1994 کو پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔1999ء میں بھارت کے ساتھ کارگل کی جنگ کے دوران مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔جنگ جب شروع ہوئی تو کیپٹن کرنل شیر خان نے مٹھی بھر جوانوں کے ہمراہ گلتیری کے مقام پر17000 فٹ کی بلندی پردفاعی نوعیت کے پانچ انتہائی اہم مورچے قائم کیے اور پھر انتہائی جانفشانی سے ان کا دفاع کرتے رہے اور اسی جدوجہد میں ایک مشین گن کی گولیوں کی زد میں آگئے اور جام شہادت نوش کیا۔ کارگل جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پہلے فوجی اہلکار تھے جن کو نشان حیدر دیا گیا۔
Comments are closed.